یو این ایس
سرینگر//سرینگر کے مصروف امیرا کدل پل سمیت ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور شہر کے دیگر پلوں اور اہم سڑکوں پر فٹ پاتھوں پر بڑھتی تجاوزات نے پیدل چلنے والوں کی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فٹ پاتھوں پر خوانچہ فروشوں اور عارضی اسٹالوں کے قبضے کے باعث انہیں تیز رفتار ٹریفک کے درمیان چلنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے حادثات کا خطرہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ امیرا کدل پل پر پیدل چلنے والوں کے لیے مختص راستے کا ایک بڑا حصہ پھل، مچھلی، کپڑے اور دیگر اشیا فروخت کرنے والے خوانچہ فروشوں نے گھیر رکھا ہے، جس کی وجہ سے راہگیروں کے لیے گزرنے کی جگہ انتہائی محدود رہ گئی ہے۔ اسی طرح ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، بڈشاہ پل، حبہ کدل اور دیگر مصروف پلوں کے اطراف بھی فٹ پاتھوں پر تجاوزات کے باعث پیدل چلنے والوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔طالب علم اویس امین نے کہا کہ انتظامیہ کو تجاوزات کے مکمل خاتمے کے بجائے خوانچہ فروشوں کے لیے باقاعدہ وینڈنگ زون یا مخصوص جگہ مقرر کرنی چاہیے تاکہ ان کا روزگار بھی متاثر نہ ہو اور عوام کو بھی محفوظ انداز میں پیدل چلنے کی سہولت میسر آئے۔ایک مقامی شہری نے کہا کہ اگر متعلقہ ادارے ابتدا ہی میں تجاوزات کے مسئلے پر قابو پاتے تو آج صورتحال اس قدر سنگین نہ ہوتی۔
ان کے مطابق اب اگر تجاوزات ہٹانے کی مہم شروع کی جائے تو یہ عمل خوانچہ فروشوں اور دیگر متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد انجام دیا جانا چاہیے۔ایک اور راہگیر نے تجویز دی کہ جہانگیر چوک سے کلاک ٹاور تک امیرا کدل کے راستے ٹریفک کو منظم کیا جائے اور اس سڑک پر صرف آٹو رکھشوں کو چلنے کی اجازت دی جائے تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہو اور پیدل چلنے والوں کو محفوظ راستہ میسر آ سکے۔گزشتہ پندرہ برس سے امیرا کدل پل پر کاروبار کرنے والے مشتاق احمد نے بتایا کہ ان کے خاندان کا تمام انحصار اسی کاروبار پر ہے۔ اس لیے متبادل انتظام کے بغیر بے دخلی ان کے خاندان کو شدید مالی بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ایک اور خوانچہ فروش عمر نے کہا کہ اگر حکومت مناسب متبادل جگہ فراہم کرے تو انہیں منتقل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ان کے مطابق مکہ مارکیٹ کی طرز پر اگر نئی وینڈنگ سائٹس قائم کی جائیں تو وہ خوشی سے وہاں منتقل ہو جائیں گے۔مچھلی فروخت کرنے والی ایک خاتون نے کہا کہ برسوں سے یہی مقام ان کے خاندان کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے اور اس سے ان کی جذباتی وابستگی بھی قائم ہو چکی ہے، کیونکہ ان کے خاندان کی کفالت اسی آمدنی سے ہوتی ہے۔راہگیرعبدالحمید نے کہا کہ مسئلہ اب صرف تجاوزات کا نہیں بلکہ ایسا متوازن اور انسانی حل تلاش کرنے کا ہے جس میں شہری سہولت، ٹریفک کی روانی اور غریب طبقے کے روزگار تینوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ادھر متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ وینڈنگ زونز کی گنجائش ختم ہونے کے باعث یہ مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق سری نگر کے مختلف علاقوں میں نئے وینڈنگ زونز کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ خوانچہ فروشوں کو مناسب متبادل جگہ فراہم کی جا سکے اور امیرا کدل، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور دیگر مصروف پلوں اور شاہراہوں پر پیدل چلنے والوں کے لیے فٹ پاتھ دوبارہ خالی کرائے جا سکیں۔