عظمیٰ ویب ڈیسک
لیہہ/لداخ انتظامیہ نے ماحولیات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے کارروائی کرتے ہوئے 13 سیاحوںپر غیر قانونی آف روڈنگ اور محفوظ جنگلی حیات کے علاقوں میں داخل ہونے کے الزام میں بھاری جرمانے عائد کیے ہیں۔حکام کے مطابق، تسو موریری جھیل کے قریب محفوظ علاقے میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے 12 موٹر سائیکل سواروں پر10,000 روپے فی کس جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ پینگونگ جھیل کے نزدیک محفوظ جنگلی حیات کے علاقے میں ایک ’ایس یو وی‘چلانے پر اس کے مالک کو 50,000 روپےجرمانہ کیا گیا۔ یہ کارروائی وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ، 1972کی خلاف ورزی کے تحت عمل میں لائی گئی۔
حکام نے بتایا کہ یہ خلاف ورزیاں محکمہ جنگلی حیات کی معمول کی گشت کے دوران وائلڈ لائف انفارمرز کی مدد سے سامنے آئیں۔ حالیہ عرصے میں سیاحوں کی جانب سے موٹر سائیکلوں اور چار پہیہ گاڑیوں کو جھیلوں کے کناروں، دلدلی علاقوں اور جنگلی حیات کے محفوظ مسکنوں میں چلانے کے باعث نازک ماحولیاتی نظام اور مقامی جنگلی حیات کو شدید نقصان پہنچنے کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔انتظامیہ کے مطابق یہ مہم لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ کی ہدایات پر شروع کی گئی ہے تاکہ غیر قانونی آف روڈنگ پر قابو پایا جا سکے اور لداخ کے حساس قدرتی علاقوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے بیان میں کہا کہ لداخ کے پہاڑ، جھیلیں، دریا اور جنگلی حیات اس خطے کا قیمتی قدرتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے سیاحوں سے اپیل کی کہ وہ لداخ کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ماحول اور جنگلی حیات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ سیاحت کے فروغ کے لیے پُرعزم ہے، تاہم قدرتی ورثے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی جاری رہے گی۔
حکام نے مزید بتایا کہ حال ہی میں تعینات کی گئی لداخ انوائرمنٹ پروٹیکشن فورس (EPF)، جس میں 100 سابق فوجی اہلکار شامل ہیں، ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقوں کی نگرانی کر رہی ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف موقع پر ہی چالان جاری کرنے کے اختیارات رکھتی ہے۔انتظامیہ نے بالخصوص ایڈونچر بائیکرز اور آف روڈ شوقین افراد سے اپیل کی ہے کہ وہ مقررہ راستوں پر ہی سفر کریں اور محفوظ جنگلی حیات کے علاقوں میں داخل ہونے سے گریز کریں، بصورت دیگر ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
لداخ میں غیر قانونی آف روڈنگ پر کریک ڈاؤن، 13 سیاحوں پر جرمانے عائد