احمد اقبال ( اِکز )
اسکول میں لنچ ٹائم چل رہا تھا۔ میں نماز ادا کرکے آفس واپس آیا۔ ابھی میں نے اپنا لنچ باکس اٹھایا ہی تھا کہ دروازہ تیزی سے کھلا اور صفوان اندر آیا۔ اس کے چہرے پر غصہ تھا، مگر آنکھوں میں آنسوؤں کے موتی بھی چمک رہے تھے۔’’سر! مجھے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائیں۔ میرے ستر روپے کلاس میں چوری ہوگئے ہیں۔‘‘اس کی آواز میں غصہ بھی تھا اور دکھ بھی۔اور آنکھوں میں آنسوں بھی۔میں نے نرمی سے کہا،’’کوئی بات نہیں بیٹا، آؤ۔ دیکھتے ہیں۔‘‘میں نے رئیس صاحب کو آواز دی۔’’صفوان کو بٹھائیے اور سی سی ٹی وی چیک کیجیے، میں کھانا کھا کر آتا ہوں۔‘‘
صفوان ہمارے اسکول کی دوسری جماعت کا طالب علم ہے۔ نہایت پھرتیلا، ذہین اور ہر وقت متحرک رہنے والا بچہ۔جب میں کھانا کھا کر واپس آیا تو رئیس صاحب اب بھی اسکرین پر نظریں جمائے بیٹھے تھے۔ خان صاحب بھی وہیں موجود تھے۔ صفوان ایک طرف خاموش کھڑا تھا۔ ایک ہاتھ پینٹ کی جیب میں، دوسرا میز پر اور اس کی نظریں پوری یکسوئی سے اسکرین پر جمی ہوئی تھیں۔
چند لمحوں بعد ویڈیو میں ایک بچہ نظر آیا۔ وہ صفوان کے بیگ کے قریب گیا، جیب میں ہاتھ ڈالا اور کچھ نکال کر آگے بڑھ گیا۔’’بس ۔۔۔روکیے!‘‘میں نے بلند آواز میں کہا۔
رئیس صاحب نے ویڈیو روک دی۔خان صاحب نے صفوان سے پوچھا،’’اسے جانتے ہو؟‘‘۔’’جی سر۔۔۔یہ عبداللہ ہے۔ میرا دوست۔‘‘
’’تو پیسے اسی نے نکالے ہیں؟‘‘۔’’جی سر۔‘‘،’’اچھا، اسے بلاتے ہیں۔‘‘
صفوان نے فوراً کہا،’’نہیں سر!‘‘،’’کیوں؟‘‘،’’کیونکہ ۔۔۔یہ میرا دوست ہے۔‘‘ہم سب ایک لمحے کے لیے خاموش ہوگئے۔’’تو اسے معاف کرتے ہو؟‘‘’’جی سر۔‘‘
’’اور اپنے ستر روپے واپس لوگے؟‘‘’’نہیں سر۔‘‘،’’کیا مطلب؟‘‘۔’’مجھے پیسے واپس بھی نہیں چاہیے۔‘‘یہ سن کر ہم سب ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔
یہ دوسری جماعت کا ایک ننھا سا بچہ تھا، جو ابھی شعور کی ابتدائی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا، مگر اس کے دل میں دوستی، معافی اور درگزر کا ایسا جذبہ موجزن تھا جسے بڑے بڑے لوگ بھی ہمیشہ نہیں سیکھ پاتے۔ہم نے صفوان کو گلے لگایا، اس کی حوصلہ افزائی کی اور اسے کلاس میں بھیج دیا۔اس کے جانے کے بعد میں نے خورشید سے کہا،’’عبداللہ کو فوراً بلا کر لاؤ۔‘‘
چند لمحوں بعد عبداللہ آفس میں داخل ہوا۔ صفوان بھی اس کے ساتھ تھا۔میں نے ہلکے شرارتی انداز میں پوچھا،’’بیٹا، بتاؤ صفوان کے بیگ سے پیسے کیوں نکالے؟‘‘عبداللہ گھبرا گیا۔’’سر۔۔۔میں نے چوری نہیں کی۔‘‘میں نے مسکراتے ہوئے کہا،’’چپ! ہم نے سی سی ٹی وی میں سب دیکھ لیا ہے۔ سچ سچ بتاؤ، پیسے کہاں رکھے؟‘‘وہ تقریباً رونے کے قریب تھا۔’’سر، خدا کی قسم! میں نے چوری نہیں کی۔ صفوان کو پیسے مل گئے ہیں۔‘‘پھر اس نے صفوان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،’’صفوان ۔۔۔سر کو دکھاؤ۔‘‘صفوان نے خاموشی سے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ستر روپے نکال کر ہمارے سامنے رکھ دیے۔اب حیران ہونے کی باری ہماری تھی۔عبداللہ نے معصوم لہجے میں کہا،’’سر! ہمیں گیم پیریڈ تھا۔ صفوان نے پیسے بیگ کی اگلی جیب میں رکھے تھے، جہاں سے آسانی سے گر بھی سکتے تھے یا کوئی بھی نکال سکتا تھا۔ میں نے صرف وہاں سے نکال کر بیگ کی اندر والی جیب میں، ایک کتاب کے اندر چھپا دیے تھے تاکہ محفوظ رہیں۔‘‘کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ہم نے سی سی ٹی وی میں ایک منظر دیکھا تھا، مگر حقیقت اس منظر سے کہیں مختلف تھی۔
ہم اکثر زندگی میں یہی غلطی کرتے ہیں۔ کسی کے عمل کو دیکھ کر فوراً اس کی نیت پر فیصلہ سنا دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت کبھی کبھی اس تصویر کے پیچھے چھپی ہوتی ہے جسے ہماری آنکھیں دیکھ ہی نہیں پاتیں۔اس روز ستر روپے اپنی جگہ موجود تھے، مگر ہم سب کو اس سے کہیں زیادہ قیمتی چیز مل گئی تھی۔ایک طرف صفوان کی معافی، دوستی اور بے غرضی تھی، اور دوسری طرف عبداللہ کی امانت داری، احتیاط اور خلوص۔شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ بچے صرف کتابوں سے نہیں، اپنے کردار سے بھی تعلیم دیتے ہیںاور اس دن استاد ہم تھے، مگر سبق ہمیں ملا تھا۔اس روز ان دو معصوم بچوں نے ہمیں یاد دلایا کہ کردار عمر کا محتاج نہیں ہوتا۔ ایک نے دوستی کو معافی سے سینچا، دوسرے نے امانت کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھا۔ ہم بڑے اکثر بچوں کو اخلاقیات پڑھاتے ہیں، مگر کبھی کبھی یہی ننھے دل اپنے کردار سے ہمیں سچائی، حسنِ ظن، امانت داری اور انسانیت کا وہ سبق دے جاتے ہیں جو کسی نصاب، کسی کتاب اور کسی لیکچر میں نہیں ملتا۔(نوٹ: یہ افسانچہ ہمارے اسکول میں پیش آنے والے ایک حقیقی واقعے پر مبنی ہے)
مضمون نگار، ایک معلم، کالم نگار اور سماجی مبصر ہیں اور مریم میموریل انسٹیٹیوٹ پنڈت پورا قاضی آباد میں پرنسپل ہیں۔
رابطہ۔ 7006857283
[email protected]
���������������������������