بلال فرقانی
سرینگر// نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نےمرکزی حکومتوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ نئی دہلی نے دہائیوں کے دوران جموں و کشمیر کے عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کیے، جس کے باعث مرکز اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کسی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہی بلکہ صرف جموں و کشمیر کے عوام کے جائز اور آئینی حقوق کی بحالی چاہتی ہے۔حضرت بل میں بیگم اکبر جہاں کی برسی کے موقعہ پرایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ مختلف ادوار میں نئی دہلی نے جموں و کشمیر کے عوام کو یقین دہانیاں کرائیں، مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوا، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوا۔انہوں نے سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ حکومت کی جانب سے پیدا ہونے والی خامیوں کا ازالہ کیا جائے گا اور معاملات کو درست کیا جائے گا، لیکن کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود حالات میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم بھی انسان ہیں، ہم بھی بھارت کا تاج ہیں اور ہماری بھی اپنی عزت و وقار ہے‘‘۔
فاروق عبداللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات کا بھی حوالہ دیا، جس میں ان کے ساتھ سینئر رہنما غلام نبی آزاد بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملاقات میں انہوں نے وزیر اعظم سے صاف الفاظ میں کہا تھا کہ نئی دہلی اور کشمیر کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا’’یہ بدقسمتی ہے کہ ہم آپ پر اعتماد نہیں کرتے اور آپ ہم پر اعتماد نہیں کرتے۔ سب سے پہلے اس اعتماد کو بحال کرنا ہوگا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ دہلی اور کشمیر کے درمیان فاصلے کم کرنے کی یقین دہانیاں کرائی گئیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ خلیج مزید بڑھتی گئی۔اپنے سیاسی مخالفین کا نام لیے بغیر فاروق عبداللہ نے ان پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ دہلی کی ہدایات پر عمل کرتے ہیں، جبکہ عوام کے نمائندے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ یہاں ایک بات کرتے ہیں اور دہلی جا کر دوسری بات کہتے ہیں۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ جموں و کشمیر کے لوگ ہندوستان کے اندر احترام چاہتے ہیں، عبداللہ نے کہا’’ہم بھی انسان ہیں، ہم ہندوستان کے تاج ہیں، ہماری عزت ہے، اس احترام کو بحال کرنے کے لیے، ہم پرامن طریقے سے اپیل کرتے ہیں‘‘۔انہوں نے سخت لہجے میں سوال اٹھایا کہ کیا اقتدار کے حصول کے لیے کچھ لوگ اس ریاست اور اپنے والدین کی عزت تک فروخت کرنے کے لیے تیار ہیں؟ انہوں نے ایسے رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ ’’غلامی‘‘ چھوڑ کر عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ریاست کے غریب عوام سے غداری کریں گے، انہیں کبھی سکون نصیب نہیں ہوگا اور ان کا انجام برا ہوگا۔نیشنل کانفرنس کی کارکردگی کا دفاع کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت نے انتہائی مشکل حالات میں بھی جموں و کشمیر میں ترقیاتی کام انجام دیے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت نے اسکول، کالج، اسپتال اور سڑکیں تعمیر کیں اور ایسے حالات میں ترقی کا سفر جاری رکھا، جب یہ کام آسان نہیں تھا۔اپنی تقریر کے اختتام پر فاروق عبداللہ نے ایک بار پھر واضح کیا کہ نیشنل کانفرنس کی جدوجہد کسی خصوصی رعایت کے لیے نہیں بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے آئینی حقوق، وقار اور شناخت کی بحالی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کر رہے، ہم صرف اپنا حق مانگ رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ حق ہمیں واپس دیا جائے۔‘‘