سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے سب ڈویژن بدھل کے پھلنی گاؤں میں ہفتہ کے روز ایک لاپتہ لڑکی کی بازیابی کے مطالبے پر مقامی لوگوں اور اہلِ خانہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے راجوری کوٹرنکہ۔بدھل شاہراہ کو تقریباً دو گھنٹے تک بند رکھا۔ احتجاج کے باعث دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احتجاج میں شریک افراد کا کہنا تھا کہ پھلنی گاؤں کی رہائشی آسیہ کوثر گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصے سے لاپتہ ہے۔ اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا کہ لڑکی کو اغوا کیا گیا ہے اور اب تک اس کی بازیابی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث وہ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے۔
مظاہرین نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا بھی حوالہ دیا، جس میں مبینہ طور پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لڑکی نے دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے ساتھ شادی کر لی ہے تاہم اہلِ خانہ نے اس ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک منظم سازش قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو کے ذریعے اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور وہ صرف اپنی بیٹی کی بحفاظت واپسی چاہتے ہیں۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے انتظامیہ اور پولیس کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ آسیہ کوثر کو جلد از جلد تلاش کر کے اس کے والدین کے حوالے کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ گزرنے کے باوجود لڑکی کا کوئی سراغ نہ ملنا باعثِ تشویش ہے اور اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔احتجاج کی اطلاع ملتے ہی ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کوٹرنکہ وجاہت حسین اور اسٹیشن ہاؤس آفیسر بدھل آکاش شرما موقع پر پہنچے۔ دونوں افسران نے مظاہرین اور متاثرہ خاندان سے تفصیلی بات چیت کی اور انہیں جاری تحقیقات سے آگاہ کیا۔پولیس حکام نے مظاہرین کو بتایا کہ اس سلسلے میں بدھل پولیس اسٹیشن میں پہلے ہی مقدمہ درج کیا جا چکا ہے اور تفتیش پوری سنجیدگی سے جاری ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ لڑکی کی تلاش کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو مختلف مقامات پر مسلسل چھاپے مار رہی ہے تاکہ جلد از جلد اس کا سراغ لگا کر اسے بحفاظت بازیاب کیا جا سکے۔پولیس کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے اپنا احتجاج ختم کر دیا، جس کے بعد تقریباً دو گھنٹے سے معطل راجوری کوٹرنکہ بدھل شاہراہ پر ٹریفک بحال کر دی گئی اور گاڑیوں کی آمدورفت دوبارہ معمول پر آ گئی۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ معاملے کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے غیر مصدقہ خبروں اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں پر یقین نہ کریں اور اگر کسی کے پاس لاپتہ لڑکی سے متعلق کوئی مستند اطلاع ہو تو فوری طور پر پولیس کو فراہم کرے تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔