سمت بھارگو
راجوری//ضلع راجوری کے سب ڈویژن کوٹرنکہ کے بڈھال علاقے کے گدیوگ گاؤں میں مبینہ طور پر زہریلی جنگلی مشروم کھانے سے ایک ہی خاندان کے سات افراد، جن میں چھ بچے اور ایک خاتون شامل ہیں، شدید بیمار ہو گئے۔ متاثرین کو پہلے کمیونٹی ہیلتھ سینٹر (سی ایچ سی) کنڈی منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں گورنمنٹ میڈیکل کالج و اسوسی ایٹڈ ہسپتال راجوری ریفر کر دیا گیا۔جمعرات کی دیر شام متاثرہ خاندان نے مقامی طور پر اگنے والی جنگلی مشروم کھائیں، جس کے کچھ ہی دیر بعد تمام افراد کو شدید دست، قہ، معدے کی تکلیف اور گیسٹرو اینٹرائٹس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئیں۔ متاثرین کی حالت بگڑنے پر مقامی لوگوں نے فوری طور پر امداد کے لیے اطلاع دی۔چیف میڈیکل آفیسر راجوری ڈاکٹر منوہر لال رانا کے مطابق اطلاع ملتے ہی محکمہ صحت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک طبی ٹیم اور دو ایمبولینسوں کو گدیوگ گاؤں روانہ کیا۔ تمام متاثرین کو پہلے سی ایچ سی کنڈی منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی علاج کے بعد ان کی حالت کے پیش نظر انہیں جی ایم سی و اسوسی ایٹڈ ہسپتال راجوری ریفر کیا گیا۔ تمام مریض جمعہ کی علی الصبح ہسپتال پہنچ گئے۔
جی ایم سی راجوری کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر شمیم احمد نے بتایا کہ ہسپتال میں ساتوں مریض زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ سات افراد میں سے چھ کی حالت اب خطرے سے باہر ہے، جبکہ ایک بچے کی حالت ابھی بھی غیر مستحکم ہے اور اسے ڈاکٹروں کی خصوصی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تمام مریضوں کی چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے اور انہیں بہترین ممکنہ طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کو امید ہے کہ مناسب علاج کے بعد تمام مریض جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔پولیس اور محکمہ صحت کی ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ متاثرہ خاندان نے علاقے سے جمع کی گئی جنگلی مشروم استعمال کی تھیں، جن کے زہریلے ہونے کا شبہ ہے۔ اسی وجہ سے تمام افراد کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ہسپتال میں زیر علاج افراد کی شناخت محمد ظہیر (12) ولد محمد جاوید، محمد سلیم (13) ولد محمد مشتاق، زبیر احمد (3) ولد ذاکر حسین، صفینہ بیگم (3) دختر سجاد حسین، وقار علی (11) ولد محمد شریف، سلطان خان (5) ولد سجاد حسین اور شاہین اختر (25) زوجہ سجاد حسین کے طور پر ہوئی ہے۔
واقعے کے بعد محکمہ صحت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگلات یا کھیتوں سے حاصل ہونے والی جنگلی کھمبیوں یا کسی بھی غیر شناخت شدہ قدرتی غذائی شے کے استعمال سے مکمل گریز کریں، کیونکہ بعض اقسام انتہائی زہریلی ہوتی ہیں اور ان کا استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق مون سون کے موسم میں جنگلی کھمبیوں کی افزائش بڑھ جاتی ہے، تاہم عام افراد کے لیے زہریلی اور غیر زہریلی اقسام میں فرق کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ محکمہ صحت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ اگر کسی بھی شخص کو ایسی کوئی غذا کھانے کے بعد قے، دست، پیٹ میں شدید درد، بے ہوشی یا دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر قریبی اسپتال سے رجوع کریں تاکہ بروقت علاج کے ذریعے کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔