عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے جمعہ کو کہا کہ ان کی جماعت نیشنل کانفرنس کی جانب سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ ریاستی درجہ بحالی احتجاج میں شریک نہیں ہوگی، کیونکہ یہ محض ’’آنکھوں میں دھول جھونکنے‘‘اور عوام کی توجہ ’’حقیقی مسائل‘‘سے ہٹانے کی کوشش ہے۔سری نگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیل شرما نےسوال اٹھایا کہ وزیر اعلیٰ کی جانب سے گزشتہ سال ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے اعلان کردہ دستخطی مہم کا کیا ہوا۔انہوں نے کہاریاستی درجہ کی بحالی کے لیے وزیر اعلیٰ نے جس دستخطی مہم کا وعدہ کیا تھا، وہ کہاں گئی؟ ان کا الزام تھا کہ برسرِ اقتدار جماعت ریاستی درجہ کے مسئلے کو اپنی حکومتی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
سنیل شرما نے حکومت کی آؤٹ سورسنگ پالیسی کو ’’ملازمتوں کا گھوٹالہ‘‘قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اہل نوجوانوں کو روزگار کے مواقع سے محروم کیا جا رہا ہے جبکہ تقرریاں پسِ پردہ طریقے سے کی جا رہی ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ آؤٹ سورسنگ پالیسی کو فوری طور پر واپس لیا جائے، بصورت دیگر بی جے پی اپنی احتجاجی تحریک میں مزید شدت لائے گی۔انہوں نے کہا کہ اس تحریک کا آغاز کشمیر میں سول سیکرٹریٹ کے گھیراؤ سے کیا جائے گا، جس کے بعد اسے پورے جموں و کشمیر تک وسعت دی جائے گی۔
بی جے پی رہنما نے حکومت پر انتخابی وعدے پورے نہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا، جن میں 200 یونٹ مفت بجلی، 10 کلوگرام مفت راشن، ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں اور مفت ایل پی جی سلنڈر فراہم کرنے کے وعدے شامل ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کہ آیا بی جے پی دہلی میں نیشنل کانفرنس کے زیر اہتمام ریاستی درجہ بحالی احتجاج میں شریک ہوگی، سنیل شرما نے واضح کیا کہ ان کی جماعت ’’چوروں، دھوکے بازوں اور قاتلوں‘‘ کے ساتھ کھڑی نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ریاستی درجہ کی بحالی بی جے پی کا وعدہ ہے، تاہم یہ جنتر منتر پر احتجاج کے ذریعے نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ذریعے بحال کیا جائے گا۔سنیل شرما نے مختلف سرکاری محکموں میں مبینہ بدعنوانی کا الزام بھی عائد کرتے ہوئے کہا کہ تبادلوں اور دیگر سرکاری معاملات میں پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے تحقیقاتی ایجنسیوں سے ان الزامات کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری عوامی مسائل کو اجاگر کرنا اور حکومت کو جوابدہ بنانا ہے۔
ریاستی درجہ بحالی احتجاج عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش: سنیل شرما