سید کرامت حسین
انسان کو اگر ایک لفظ میں سمیٹنے کی کوشش کی جائے تو یہ کوشش خود انسان کی توہین بن جاتی ہے۔ وہ نہ ایک رُخ ہے، نہ ایک معنی، نہ ایک ہی تاثر۔ انسان ایک ایسا وجود ہے جو بیک وقت کئی جہتوں میں جیتا ہے، کئی آئینوں میں جھلکتا ہے اور کئی نگاہوں میں الگ الگ پہچانا جاتا ہے۔ اسی کثرت میں اس کی حقیقت بھی ہے اور اسی کثرت میں اس کی آزمائش بھی۔انسان کا ظاہر و باطن چاہے کتنا ہی ہم آہنگ کیوں نہ ہو، اس کے وجود کے ہزاروں روپ ہوتے ہیں۔ وہی شخص کسی کے سامنے دانائی اور فہم کا پیکر بن جاتا ہے اور کسی کی نظر میں بے حس پتھر ٹھہرتا ہے۔ کہیں وہ ضبط کی دیوار ہے، کہیں جذبات کی نرمی، کسی کے لیے عقل کی علامت اور کسی کے لیے موم کی طرح پگھلتا ہوا دل۔ اصل میں ہر تعلق انسان کے ایک مختلف پہلو کو سامنے لے آتا ہے اور ہر نگاہ اسی رخ کو دیکھتی ہے جسے وہ سمجھنے یا برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ قرآن اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے:’’ہر شخص اپنے اپنے مزاج کے مطابق عمل کرتا ہے۔‘‘ (سورۂ بنی اسرائیل ۔ 84)
اسی لیے ہمارا ہر روپ ہر ایک کے لیے نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی ایک روپ ہمارے مکمل وجود کا ترجمان بن سکتا ہے۔ انسان ایک ہی وقت میں کئی معنوں کا مجموعہ ہے،کچھ ظاہر میں، کچھ باطن میں اور کچھ ان دونوں کے بیچ کی خاموش سرحدوں پر۔ جیسے دھوپ اور بارش کے ملاپ سے قوسِ قزح جنم لیتی ہے، ویسے ہی ہمارے اندر نرمی و سختی، عقل و جذبہ، سکوت و فریاد مل کر ہماری شناخت بناتے ہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے امیرالمؤمنینؑ نے نہایت جامع لفظوں میں بیان فرمایا:’’الناس أعداء ما جهلوا۔‘‘انسان جس چیز کو نہیں سمجھ پاتا، اکثر اسی کا دشمن بن جاتا ہے۔یعنی کسی ایک رخ کو دیکھ کر پورے وجود کا فیصلہ کر لینا دراصل فہم کی تنگی ہے۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کوئی ایسا رنگ ہے جہاں انسان سب کے لیے یکساں ہو جائے؟ حقیقت یہ ہے کہ کسی ظاہری، نفسیاتی یا سماجی رنگ میں انسان کبھی سب کے لیے برابر نہیں ہو سکتا۔ مگر اگر کوئی ایک رنگ ہے جو سب کے لیے یکساں ہو سکتا ہے تو وہ اخلاقی صداقت کا رنگ ہے،وہ مقام جہاں انسان اپنی انا، مفاد اور تاثر سے اوپر اٹھ کر عدل، سچائی اور خیر کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ قرآن اس ابدی معیار کو یوں بیان کرتا ہے:’’اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔‘‘ (سورۂ حجرت ۔ 13)
اسی معیار کی تکمیل رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ کے اس فرمان میں ملتی ہے:’’مجھے اس لیے مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اخلاقِ حسنہ کو کمال تک پہنچا دوں۔‘‘یہ وہ رنگ ہے جو نہ بدلتا ہے، نہ بٹتا ہے، نہ کسی مخصوص نگاہ کا محتاج ہوتا ہے۔ یہی وہ رنگ ہے جہاں انسان واقعی انسان بن جاتا ہےاور شاید اسی میں انسان کی وحدت بھی ہے اور اس کی نجات بھی۔
<[email protected]
�����������������������