امتیاز خان
گرمیوں میں اضافے کے بعد حالیہ دنوں سوشل میڈیا پر یہ بحث زورپکڑگئی کہ چھٹیاں ہونی چاہئیں یا نہیں۔ اس سلسلے میں ایک ویڈیوکلپ تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک ’صحافی‘نے راہ چلتے ایک کم عمر بچے سے گرمیوں کی چھٹیوں اور اسکول سے متعلق سوال کیا۔ سوال کے جواب میں بچے کا انداز اور الفاظ کچھ لوگوں کیلئے باعثِ اعتراض بنے اور بدقسمتی سے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سارا ملبہ فوراً اس بچے کی تربیت پر ڈال دیا گیا۔ مگر یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ بچے نے کیا کہا اور کس انداز میں کہا۔ اصل اور چبھتا ہوا سوال یہ ہے کہ اس معصوم کو اس مقام تک کیوںلایا گیا؟یہ واقعہ بظاہر معمولی لگ سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا، گہرا اور تشویشناک رجحان کارفرما ہے۔ کم عمر بچوں کو بغیر سوچے سمجھے کیمرے کے سامنے لانا، ان سے غیر متوقع یا جذباتی سوالات کرنا اور پھر اس مواد کو وائرل کر کے سستی شہرت اور ویوز (Views)حاصل کرنا۔ یہ رویہ اب محض کسی ایک فرد کا نہیں رہا بلکہ یہ ہمارے اس بڑھتے ہوئے ڈیجیٹل میڈیا کلچر کا حصہ بن چکا ہے جہاں ویوز کی اندھی دوڑ میں اخلاقی اور انسانی حدود بہت پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔
یہ بنیادی مسئلہ صرف کسی ایک وائرل ویڈیو یا اس میں کہے گئے چند جملوں تک محدود نہیںبلکہ اس پورے ماحول سے جڑا ہوا ہے جس میں کم عمر بچوں کو بطور مواد (content)استعمال کیا جانے لگا ہے۔ اس عمر میں بچے ابھی اپنی بات کے ممکنہ اثرات، سیاق و سباق اور عوامی ردِعمل کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ایسے میں جب کوئی صحافی یا سوشل میڈیا سے وابستہ شخص انہیں غیر سنجیدہ، جذباتی یا اشتعال انگیز سوالات کے ذریعے کیمرے کے سامنے لاتا ہے تو بعد میں ذمہ داری کا سارا بوجھ بچے پر ڈال دینا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ایک کمزور فریق کو آسان ہدف بنانے کے مترادف ہے۔
یہاں سب سے پہلا سوال یہی پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر شخص جو ہاتھ میں کیمرہ اور مائیک لے کر نکل آئے، اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی راہ چلتے بچے کو روک کر اس سے ایسے سوالات کرے، جن کے نتائج وہ خود بھی مکمل طور پر سمجھنے سے قاصر ہو؟ صحافت اور مواد سازی کا بنیادی اصول ہمیشہ یہ رہا ہے کہ خبر یا مواد اس انداز سے حاصل کیا جائے کہ اس سے کسی فرد، خصوصاً کمزور طبقات کو نقصان نہ پہنچے۔ لیکن ڈیجیٹل دور میں یہ اصول اکثر وائرل ہونے کی خواہش کے نیچے دب جاتے ہیں۔بچے ایک خاص عمر میں جذباتی، فوری ردعمل دینے والے اور ماحول سے زیادہ متاثر ہونے والے ہوتے ہیں۔ ان کی شخصیت ابھی تشکیل کے مراحل میں ہی ہوتی ہے۔ اگر انہیں کسی طنزیہ یا غیر سنجیدہ ماحول میں سوالات کا سامنا کرنا پڑے تو ان کے جواب کو کسی بالغ فرد کے معیار پر پرکھنا ہی بنیادی طور پر غلط ہے۔ مگر بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر ایسا ہی کیا جاتا ہے، جہاں ایک لمحے کی ویڈیو کو بغیر سیاق و سباق کے پھیلایا جاتا ہے اور پھر اس پر اخلاقی فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ وائرل کلچر نے contextکو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ ایک مختصر کلپ، ایک جملہ یا ایک چہرے کے تاثرات پوری کہانی بن جاتے ہیں۔ نہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ سوال کس انداز میں کیا گیا تھا، نہ یہ کہ ماحول کیا تھا اور نہ ہی یہ کہ بچے پر کس قسم کا دبا ئویا غیر رسمی صورتحال اثر انداز تھی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک مکمل انسانی لمحہ ٹکڑوں میں تقسیم ہو کر عوامی تفریح یا تنقید کا سامان بن جاتا ہے۔بدقسمتی یہ ہے کہ جب بھی ایسے واقعات سامنے آتے ہیں تو گفتگو کا رخ اکثر بچے یا اس کے والدین کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ تربیت کا نعرہ لگا کر اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دی جاتی ہے حالانکہ یہ مسئلہ صرف گھریلو تربیت کا نہیں بلکہ اجتماعی میڈیا رویے کا بھی ہے۔ والدین یقینا ًذمہ دار ہیں مگر اس سے زیادہ ذمہ داری اس نظام پر عائد ہوتی ہے جو بچوں کو بغیر سوچے سمجھے عوامی ردعمل کیلئے استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک طاقتور ذریعہ بن چکا ہے جو رائے عامہ تشکیل دیتا ہے۔ یہ اگر ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہو تو شعور، آگاہی اور مثبت مکالمے کو فروغ دیتا ہے، لیکن اگر یہی طاقت محض سنسنی، مزاح یا وائرل مواد کیلئے استعمال ہو تو یہ کمزور طبقات خصوصا بچوں کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک وائرل لمحہ کسی بچے کیلئے وقتی تفریح تو بن سکتا ہے، مگر بعد میں یہی چیز اس کیلئے شرمندگی، ذہنی دبائو یا سماجی تاثر کا باعث بھی بن سکتی ہے۔میڈیا سے وابستہ افراد، چاہے وہ صحافی ہوں یا مواد بنانے والے، ان پر ایک اضافی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ان کا کام صرف منظر دکھانا نہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس منظر کا اثر کس پر کیا پڑے گا۔ ایک لمحے کی وائرل شہرت کسی بچے کیلئے طویل عرصے کی ذہنی یا سماجی الجھن کا سبب بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں صحافتی اخلاقیات میں کم عمر افراد کے ساتھ برتا ئوکے حوالے سے واضح رہنما اصول موجود ہیں، جن کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ بچے غیر ضروری عوامی دبائو سے محفوظ رہیں۔
یہاں مسئلہ صرف اخلاقیات کا نہیں بلکہ اجتماعی شعور کا ہے۔ ایک معاشرہ اگر اپنے کمزور طبقات کے تحفظ کے اصول بھول جائے تو وہ بتدریج ایک ایسے ماحول کی طرف بڑھتا ہے جہاں ہر چیز مواد بن جاتی ہے۔ جذبات، معصومیت، روزمرہ گفتگو اور حتیٰ کہ بچپن کے بے ساختہ لمحات بھی۔ یہ رجحان وقتی طور پر تو تفریح فراہم کرتا ہے مگر طویل مدت میں یہ سماجی حساسیت کو کمزور کر دیتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ہر چہرہ کیمرے کیلئے دستیاب ہوگا اور ہر لفظ وائرل ہونے کے امکان کے تحت پرکھا جائے گا؟ اگر ایسا ہے تو پھر ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس ماحول میں سب سے زیادہ غیر محفوظ کون ہوگا۔ ظاہر ہے کہ بچے اس فہرست میں سب سے اوپر ہوں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور معاشرہ اس رجحان پر سنجیدگی سے غور کریں۔ بچوں کو عوامی ردعمل کیلئے استعمال کرنے سے گریز کیا جائے، ان کی نجی اور جذباتی حدود کا احترام کیا جائے اور میڈیا میں ایسی اخلاقی رہنما اصولوں کو فروغ دیا جائے جو کم از کم بچوں کو غیر ضروری دبائو اور تضحیک سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی سطح پر بھی یہ شعور پیدا کرنا ضروری ہے کہ ہر وائرل چیز قابلِ تنقید نہیں ہوتی اور ہر بچے کا جواب کسی اخلاقی فتویٰ کا متقاضی نہیں ہوتا۔آخر میں بات پھر وہیں آتی ہے کہ بچے ہمارا مستقبل ہیں۔ اگر ہم نے انہیں آج صرف مواد سمجھ کر استعمال کیا تو کل یہی معاشرہ اپنے ہی مستقبل کے ساتھ انصاف نہیں کر سکے گا۔
<[email protected]
����������������������