عظمیٰ نیوز سروس
لکھنؤ// رام جنم بھومی مندر میں چوری کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) کی ابتدائی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کئی سنگین خامیوں اور غفلتوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹ حکام نے گنتی کے عمل کی نگرانی کے لیے قواعد کو کمزور کیا۔ اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمین نے مندر کا نذرانہ (چڑھاوا) چرا لیا۔ تاہم، رپورٹ میں شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیتر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور خزانچی گوپال رائے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے، جس سے اس رپورٹ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ تاہم حتمی رپورٹ ابھی آنا باقی ہے۔ایس آئی ٹی (SIT) کی رپورٹ کے مطابق، عطیہ کی گنتی کے عمل کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے 6 فروری 2025 کو ایک معیاری آپریٹنگ پروسیجر (SOP) بنایا گیا تھا۔ اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ گنتی کے کمرے میں کون داخل ہوگا، ملازمین کیسے داخل ہوں گے، وہ کس قسم کی یونیفارم پہنیں گے اور گنتی شروع ہونے سے پہلے اور بعد میں ان کی تلاشی لی جائے گی۔ تاہم بعد میں ان قوانین کو کمزور کر دیا گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات کا معاملہ ہے کہ کن حالات اور وجوہات کے تحت سکیورٹی رولز میں تبدیلی کی گئی۔ ملزمین نے ان کمزوریوں سے فائدہ اٹھایا اور چندہ چرانے میں کامیاب ہوگئے۔ایس آئی ٹی کی رپورٹ، ٹرسٹ ممبر انل مشرا کے کردار پر بھی سوال اٹھاتی ہے۔ ایس آئی ٹی کے مطابق 20 ستمبر 2024 کو انہیں عطیات اور پیشکشوں کے انتظام کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ ان کی ذمہ داری گنتی کے عمل کی مؤثر نگرانی کرنا تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ رپورٹ میں اسے نگرانی میں غفلت کا مرتکب ٹھہرایا گیا ہے۔ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق، رام شنکر یادو عرف ٹنّو یادو چوری کا اہم ملزم ہے۔ اس نے ٹرسٹ کے نمائندے کے طور پر مندر کے احاطے میں مختلف عطیہ خانوں (کھنڈیوں) کی چابیاں اپنے پاس رکھی تھیں، حالانکہ ٹرسٹ کی طرف سے اسے باضابطہ طور پر ایسا کرنے کا اختیار نہیں تھا۔ ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ٹنّو یادو نے اپنے بھتیجے منیش یادو کو ٹرسٹ میں نوکری دلائی اور اسے چندہ گننے کی ڈیوٹی سونپی۔ اس کے بعد دونوں سازشیوں نے عطیات چوری کرنے کی سازش کی۔رپورٹ میں کاؤنٹنگ انچارج سبھاش سریواستو کی ذمہ داری کی بھی نشاندہی کی گئی۔ تفتیش میں بتایا گیا کہ اس کی موجودگی میں ہی چڑھاوے کی چوری کی گئی تھی۔ اس لیے اس کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق، سی سی ٹی وی فوٹیج میں 27 اپریل 2026 سے صرف 45 دنوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس فوٹیج میں، ملزمین کو تقریباً 70 بار کرنسی نوٹوں کے بنڈل چراتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیشگی فوٹیج دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے اس بات کا تعین کرنا ممکن نہیں کہ چوری کب سے جاری تھی اور کتنی رقم غبن ہوئی۔ نتیجتاً، چوری کی اصل رقم کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔