عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وادی کشمیر میں گرمیوں کے ان شدید ایام میں بھی پانی کی قلت کو لیکر سرینگر سمیت وادی کے دیگر علاقوں میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے ۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی کیخلاف پنگلنہ پلوامہ میں خواتین نے محکمہ جل شکتی کیخلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے سڑک پر کچھ وقت تک دھرنا بھی دیا ۔سرینگر کے بٹہ مالو اور اس سے ملحقہ متعدد علاقوں میں پینے کے پانی قلت کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ علاقوں کے لوگوں نے انتظامیہ سے فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق مگرمل باغ، ایس ڈی کالونی، اقرا کالونی اور آس پاس کے علاقوں میں کئی دنوں سے پانی کی سپلائی متاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کو بارہا آگاہ کرنے کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندان روزانہ پینے کے صاف پانی کے لیے پریشان ہیں۔
ادھرضلع پلوامہ کے متعدد علاقوں میں پینے کے صاف پانی کی شدید قلت کے باعث عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ لاجورہ اور پنگلینہ کے باشندوں نے متعلقہ حکام کے خلاف شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ لاجورہ کے لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں جل شکتی اسکیم کی تعمیر مکمل ہونے کے باوجود اسے تاحال فعال نہیں بنایا گیا، جس کے باعث سینکڑوں خاندان روزانہ پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ دوسری جانب پنگلینہ میں پانی کی شدید قلت کے خلاف لوگوں نے دوسری مرتبہ احتجاج کیا اور سرینگر۔پلوامہ شاہراہ پر دھرنا دے کر ٹریفک کی آمدورفت متاثر کر دی۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ بارہا شکایات اور مطالبات کے باوجود مسئلے کا مستقل حل نہیں نکالا گیا، جس کے باعث عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس اور انتظامی حکام کی جانب سے جلد مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی کے بعد مظاہرین نے دھرنا ختم کر دیا اور شاہراہ پر ٹریفک بحال کر دی گئی۔