وزیر اعلیٰ کی محکمہ روزگار کونوجوانوں کیلئے مواقع فراہم کرنے کی ہدایت
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کل جموںوکشمیر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ( جے کے او اِی سی ایل) کی بحالی اور اسے فعال بنانے کے روڈ میپ کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں جموں و کشمیر کے بیرونِ ملک بھرتیوں سے متعلق سہولتی ڈھانچے کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا جس کا مقصد جموںوکشمیر کے ہنر مند نوجوانوں کو عالمی سطح پر روزگار کے مواقع سے جوڑنے کے لئے ایک مضبوط اِدارہ جاتی نظام قائم کرنا ہے۔میٹنگ میں جموںوکشمیر اوورسیز ایمپلائمنٹ کارپوریشن لمٹیڈ( جے کے او اِی سی ایل) کو حکومت کی نوڈل بھرتی ایجنسی کے طور پر بحال کرنے کی تجویز کردہ حکمت عملی پر غور وخوض کیا گیا تاکہ محفوظ، شفاف اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق بیرونِ ملک روزگار کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس دوران ادارہ جاتی نظام کو مضبوط بنانے، بین الاقوامی شراکت داری کو فروغ دینے، عالمی معیار کے مطابق ہنروں کی تربیت کو وسعت دینے اور نوجوانوں کو بیرونِ ملک کیریئر کے لئے تیار کرنے کی خاطر ایک مربوط نظام قائم کرنے پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ڈائریکٹر ایمپلائمنٹ جموں و کشمیر ہرویندر سنگھ نے ایک تفصیلی پرزنٹیشن پیش کرتے ہوئے جے کے او اِی سی ایل کو مرحلہ وار فعال بنانے کا خاکہ پیش کیا۔ اس میں ڈیجیٹل اوورسیز ایمپلائمنٹ پورٹل کے قیام، لائسنس یافتہ بھرتی کرنے والی ایجنسیوںکے ساتھ شراکت داری، غیر ملکی زبانوں اور بین الاقوامی سرٹیفکیشن پروگراموں، آجر اداروں کے ساتھ روابط، کیریئر کونسلنگ، قبل از روانگی او رینٹیشن اور پوسٹ پلیس سپورٹ شامل ہیں۔ مجوزہ نظام کے تحت جے کے او اِی سی ایل کو وزارتِ خارجہ، پروٹیکٹر آف امیگریشن، بیرونِ ملک بھارتی مشنز، ہنرمند تربیتی اداروں اور لائسنس یافتہ ریکروٹنگ ایجنسیوں کے ساتھ رابطہ کار نوڈل ادارے کے طور پر فروغ دیا جائے گا تاکہ اخلاقی، شفاف اور قانونی تقاضوں کے مطابق بیرونِ ملک بھرتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وزارتِ خارجہ کے تحت چندی گڑھ کے پروٹیکٹر آف امیگریشن یشو دیپ سنگھ نے بھی جموں و کشمیر سے بیرونِ ملک مائیگریشن کے رُجحانات، خطے کی جانب سے بیرونِ ملک سے آنے والی ترسیلاتِ زر میں کردار اور مختلف ممالک کے ساتھ ہندوستان کے لیبر موبلٹی معاہدوں کے تحت دستیاب روزگار کے مواقع پر ایک پرزنٹیشن دِی۔وزیرا علیٰ عمر عبداللہ نے مجوزہ تجاویز کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ مقصد صرف لوگوں کو بیرونِ ملک بھیجنا نہیں بلکہ عالمی سطح پر مسابقت کی صلاحیت رکھنے والی افرادی قوت تیار کرنا ہونا چاہیے۔اُنہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کا منصوبہ تیار کریں اور مجوزہ نکات کو واضح اور قابلِ عمل نتائج میں تبدیل کریں۔ اُنہوں نے کیرالہ اور تامل ناڈو جیسی ریاستوں کے کامیاب ماڈلوں سے اِستفادہ کرنے کی بھی ہدایت دی جنہوں نے بیرون ملک روزگار کی سہولیت کو کامیابی سے اِدارہ جاتی شکل دی ہے۔اُنہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایک ایسی تکمیلی صنعتی پالیسی مرتب کی جائے جو نجی شعبے کی ہنرمندی کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کرے۔