عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے پہلگام حملہ کیس میں پاکستان میں مقیم کالعدم تنظیم لشکرطیبہ (LeT) کے بانی اور سربراہ حافظ سعید کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کر دی ہے، جس کے ذریعے حملے کے پس پردہ سرحد پار سازش سے متعلق تحقیقات کو مزید تقویت ملی ہے۔این آئی اے کی جانب سے جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق، یہ ضمنی چارج شیٹ جموں میں این آئی اے کی خصوصی عدالت میں پیش کی گئی ہے، جس میں حافظ سعید کو انفرادی حیثیت کے علاوہ کالعدم تنظیم لشکرطیبہ (LeT) اور اس کی پراکسی تنظیم دی ریزسٹنس فرنٹ (TRF) کے سربراہ کی حیثیت سے بھی نامزد کیا گیا ہے۔
تحقیقاتی ایجنسی نے (BNS) 2023 اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) 1967 کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں بھارت کے خلاف جنگ چھیڑنے، مجرمانہ سازش اور سرحد پار سے سرگرمیوں کی منصوبہ بندی و قیادت جیسے الزامات شامل ہیں۔این آئی اے کے مطابق یہ ضمنی چارج شیٹ پہلے سے داخل کی گئی 1,597 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ کا حصہ ہے، جس میں نئے شواہد، پاکستان کی مبینہ سرپرستی میں ہونے والی سازش کی مزید تفصیلات، حافظ سعید کے مبینہ کردار، سائنسی تجزیے اور وسیع پیمانے پر کی گئی فیلڈ تحقیقات کے نتائج شامل کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ 15 دسمبر 2025 کو این آئی اے نے اس کیس میں پہلی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں پاکستان میں موجود مبینہ ہینڈلر ساجد جٹ، جولائی 2025 میں آپریشن “مہادیو” کے دوران مارے گئے تین ملی ٹینٹوں اور دو گرفتار ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا۔ ایجنسی نے کالعدم لشکرِ طیبہ اور ٹی آر ایف کو بھی حملے کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور عمل درآمد میں ملوث تنظیموں کے طور پر شامل کیا تھا۔
22 اپریل 2025 کو پیش آئے پہلگام حملے میں پاکستان کی حمایت یافتہ ملی ٹینٹوں کی جانب سے مبینہ مذہب کی بنیاد پر کیے گئے ٹارگٹ کلنگ کے نتیجے میں 25 سیاح اور ایک مقامی شہری ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ حالیہ برسوں میں جموں و کشمیر کے مہلک ترین حملوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ مقدمہ ابتدا میں ضلع اننت ناگ کے پولیس اسٹیشن پہلگام میں ایف آئی آر نمبر 25/2025 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ بعد ازاں جموں و کشمیر پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے بعد وزارت داخلہ نے جامع تحقیقات کے لیے یہ کیس این آئی اے کے سپرد کر دیا تھا۔این آئی اے نے کہا ہے کہ کیس RC-02/2025/NIA/JMUکی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس پوری مبینہ سازش اور بھارت میں ملی ٹینٹ سرگرمیوں کی سرپرستی اور ہدایت دینے والے پاکستان میں قائم ملی ٹینٹ نیٹ ورکس کے کردار کو مکمل طور پر بے نقاب کیا جا سکے۔