عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے انسدادِ بدعنوانی بیورو (اے سی بی) نے ضلع کپواڑہ کے کرناہ علاقے میں 5.57 کروڑ روپے مالیت کے سرکاری غذائی اجناس میں مبینہ خرد برد کے معاملے میں محکمہ خوراک، شہری رسدات و امور صارفین (FCS&CA) کے پانچ ملازمین اور نو فیئر پرائس شاپ (FPS) ڈیلروں سمیت مجموعی طور پر 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
اے سی بی کے ترجمان نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن اے سی بی بارہمولہ میں ایف آئی آر زیرنمبر 02/2026درج کی گئی ہے۔ مقدمہ انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1988(ترمیم شدہ) کی دفعہ 13(1)(a) مع دفعہ 13(2)اور بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) 2023کی دفعات 61(2)اور 316(5) کے تحت، جموں و کشمیر حکومت کے جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (GAD) سے پیشگی منظوری حاصل کرنے کے بعد درج کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق یہ کارروائی محکمہ خوراک، شہری رسدات و امور صارفین، کشمیر کے ڈائریکٹر کی جانب سے موصولہ مراسلے کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی، جس میں محکمانہ معائنوں اور زمینی تصدیق کے دوران سرکاری غذائی اجناس میں بڑے پیمانے پر کمی سامنے آنے کے بعد متعلقہ افسران اور فیئر پرائس شاپ ڈیلروں کے خلاف فوجداری کارروائی کی سفارش کی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ گورنمنٹ سیل سینٹروں اور فیئر پرائس شاپس پر کیے گئے مشترکہ اچانک معائنے کے دوران ابتدا میں کرناہ کے لونٹھاگرناری4,175.89 کوئنٹل چاول کی کمی پائی گئی۔ بعد ازاں محکمانہ ذیلی کمیٹی اور اے سی بی کی تفصیلی تحقیقات کے دوران ضلع کپواڑہ کے ٹنگڈار، کرناہ-اے اور کرناہ-بی حلقوں کے مختلف سیل سینٹروں اور فیئر پرائس شاپس میں بھی بڑے پیمانے پر غذائی اجناس کی کمی کا انکشاف ہوا۔
ترجمان کے مطابق اس مبینہ گھپلے کے نتیجے میں سرکاری خزانے کوتقریباً 5.57 کروڑ روپےکا نقصان پہنچا۔ تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی کہ سرکاری ملازمین اور نجی افراد نے مبینہ طور پر باہمی سازش کے تحت اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے سرکاری راشن میں خرد برد کی اور ناجائز مالی فائدہ حاصل کیا۔اے سی بی کے مطابق دستیاب شواہد کی بنیاد پر سرکاری راشن میں خرد برد، مجرمانہ بددیانتی، امانت میں خیانت، سرکاری املاک کے غلط استعمال اور مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس کیس میں اُس وقت کے اسسٹنٹ اسٹور کیپرعمر بشیر عرف راجہ عمر، عاشق حسین میر سمیت دیگر سرکاری ملازمین اور فیئر پرائس شاپ ڈیلر بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ مقدمہ درج ہونے کے فوراً بعد متعدد مقامات پر تلاشی کارروائیاں شروع کر دی گئی ہیں جبکہ قانون کے مطابق دیگر ضروری کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ کیس کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔اے سی بی نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارہ بدعنوانی کے خاتمے اور عوامی وسائل کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بدعنوانی کے واقعات کی اطلاع اے سی بی ہیلپ لائن یا سرکاری ای میل کے ذریعے دیں۔
کرناہ، کپواڑہ میں 5.57کروڑ روپے کے سرکاری راشن گھپلے میں اے سی بی کا بڑا ایکشن، 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج