تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی سامراجی طاقتوں نے کسی ملک پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے انہوں نے اُس ملک میں اپنا نوآبادیتی نظام قائم کرلیا،جس کے ذریعے اُس ملک کے قوم کو اپنا غلام بنایا ، اُس کے وسائل پر قبضہ کرکے اُنہیں ہر لحاظ سے اس قدرکنگال کر دیاکہ اُس قوم کی اپنی مخصوص شناخت یا انفرادیت اور تہذیب و تمدن تک کومسخ کرکے رکھ دیا،گویا ہر سامراجی طاقت نے اپنی مرعوبیت سے ہرمغلوب قوم کو اتنا متاثر کرکے رکھ دیاکہ وہ ذہنی طور پر بھی اُن کے غلام بن گئےاور سامراج کے ہی طور طریقے اور اُن کا طرزِ زندگی اختیار کرنے میں فخر سمجھنے لگے۔ نتیجتاً وہ ساری خباثتیں ،بُرائیاں اور خرابیاںجو سامراجی طاقتوں میں پائی جاتی تھیں،مغلوب قوموں میں منتقل ہوگئیں،جو آج تک تواتر کے ساتھ فروغ پارہی ہیں۔ہمارے ملک میں بھی انگریزکے سامراجی دور کے دوران ایسی کئی خباثتیںاور خرابیاںپھیل گئی تھیں، جنہیں اب ہم وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مغرب کی جدیدیت کا نام دے رہے ہیںاور پسندیدگی کے ساتھ اپنا رہے ہیں۔
جبکہ جدیدیت کی بنیاد اصل میں مغربی تہذیب ہے،جس کی اندھی تقلید دورِ حاضر میں ایک فیشن بن چکی ہے۔ اس تہذیب نے زندگی کے تمام شعبوں اور بالخصوص خاندانی نظام پر جو خطرناک اثرات ڈالے ہیں، اُس کا خمیازہ اب پوری دنیا بھگت رہی ہے۔ خاندانی نظام کی بنیادوں کا کھوکھلا ہوجانا ، دن بہ دن اخلاقی اقدار کا زوال پذیر ہونا، مقدس رشتوں کی پامالی اور بزرگوں کا احترام ختم ہوجانا، یہ سب مغربی تہذیب کی ہی دین ہے۔ اس مغربی تہذیب نے جدیدیت کے نام پر اپنے زہریلے اثرات سے معاشرتی زندگی کے تانے بانے کو پوری طرح بکھیر کر رکھ دیئے ہیں۔جدیدیت کے زیر سایہ ہمارے معاشرے میں جو خاندانی نظام اِس وقت چل پڑا ہے، اُس میں وہ ساری خرابیاں دیکھی جا سکتی ہیں جو مغرب میں خاندانی نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا ذریعہ بنی ہیں۔
چنانچہ ہمارے معاشرےمیں مشترکہ خاندانی نظام میںجو فوائد تھے، اُس سے آج ہماری نوجوان نسل واقف بھی نہیں ہے۔ خاندان میں محبت اور اُلفت کے جو دریا بہتے تھے،وہ آج سوکھ چکے ہیں۔ ایک دوسرے کی مدد اور ایک دوسرے سے تعاون کا جذبہ، صبر، تحمل اور ایثار و قربانی کے پاکیزہ جذبات سے خاندان بھرے ہوتے تھے،آج قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں۔جبکہ آج کے دور میں ساری سہولتوں کے باوجود مشترکہ خاندان کے نہ ہونے سے ہر خاندان پریشان ، مضطرب اور بے چین نظر آتا ہے۔ ہر فرد کو اپنا بوجھ خود اٹھانا پرتا ہے، اُس کی خوشی اور غم کسی اورکے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ تعلقات محض رسمی نوعیت کے ہوکر رہ گئے۔خاندانی نظام میں یہ بدلاؤ دراصل اُسی جدیدیت کا نتیجہ ہے جس کے ہم سب خوگر ہوگئے ہیں۔
مغرب میں خاندانی نظام کا کوئی تصور نہیں ہے، ازواجی زندگی ان کے لئے ایک بڑی مصیبت ہے۔ خاندان کا ایک فرد دوسرے کو اپنی دل کی بات نہیں بتا سکتا۔ ایسے نظام کو اگر اکسیر مان کر قبول کیا جا رہا ہے تو یہ کم علمی اور جہالت کی ہی بات ہوسکتی ہے۔ جدیدیت کے نام پر پنپنے والی مغربی تہذیب کا شکار سب سے زیادہ آج کی نوجوان نسل ہورہی ہے۔ سیل فون کے بے تحاشا استعمال کی بات ہو یا پھر نوجوانوں کا ڈرگس میں مبتلا ہونا ہو، یہ سب مغرب کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے۔ مغربی تہذیب کا دامن تھام کر مشرقی اقوام بھی اس کے کڑوے کسیلے پھل کھا کر سمجھ چکی ہے کہ جدیدیت یا مغربی تہذیب محض ایک سراب ہے، جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
جب کہ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ مذہبی تعلیمات خاندانی نظام کو استوار کرنے میں کلیدی رول ادا کرتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم پورے معاشرہ اور خاص طور پر خاندانی نظام میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے لئے جدیدیت اور مغربی تہذیب کے خلاف مورچہ بندی کریںاور خاندانی نظام کو بہتر بنانے کے لئے مغربی تہذیب کا سہارا لینے کے بجائے مذہبی اصولوں اور مشرقی اقدار ور و ایات کو اپنائیںتاکہ خاندانوں میں پہلے جیسے پاکیزہ جذبات پروان چڑھ جائیں ۔