عاصف بٹ
کشتواڑ //ضلع ہسپتال کشتواڑ میں تعینات ڈاکٹروں نے ہسپتال میں پیش آئے واقعہ اور مبینہ دباؤ کے خلاف انوکھے انداز میں احتجاج کرتے ہوئے بازوؤں پر سیاہ ٹی باندھ کر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر کشتواڑ کی موجودہ سیاسی فضا انہیں قبول نہیں کرتی تو حکومت انہیں کسی اور مقام پر تبدیل کرے تاکہ وہ سکون اور پیشہ ورانہ ماحول میں اپنی خدمات انجام دے سکیں۔اطلاعات کے مطابق ڈاکٹروں کی جانب سے یہ احتجاج اُس وقت شروع کیا گیا جب جمعہ کی علی الصبح پاڈر علاقے میں رونما ہوئے سڑک حادثے میں زخمی افراد کو ہسپتال لایاگیا جہاں انھیں مبینہ طوربروقت علاج میسر نہ ہونےپر مقامی ایم ایل اے و انکے حامیوں نے ڈاکٹروں کے خلاف آواز اٹھائی جسکے بعد ایم ایل کشتواڑ شگن پریہار نے ڈائریکٹر ہیلتھ سروس سے ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا اور انھیں کشتواڑ سے سبھی تبدیل کرنے کو کہا ۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروس نے فوری کاروائی عمل میں لاتےہوئے چیف میڈیکل افسر و میڈیکل سپرانٹنڈنٹ کے خلاف وجہ بتائو نوٹس جاری کئے اور ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کی ہدایت دی۔وہیں سنیچر کو میڈیکل سپرانٹنڈنٹ یدھویر سنگھ نے پریس کانفرس کی اور ہسپتال میں پیش آنے والے واقعات پر بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ طبی عملہ غیر محفوظ اور دباؤ کا شکار محسوس ہونے لگا، ڈاکٹروں نے کہا کہ بار بار مداخلت ،بے جا تنقید اور بعض حلقوں کی جانب سے غیر ضروری سیاسی دباؤ ان کے کام کو متاثر کر رہا ہے جس کے باعث مریضوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، احتجاجی ڈاکٹروں نے واضح کیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہیں اور ایمرجنسی سمیت بنیادی طبی خدمات بدستور جاری رہیں گی، تاہم وہ اپنے تحفظات کو نظر انداز نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم یہاں عوام کی خدمت کے لیے آئے ہیں، لیکن اگر ہمیں عزت اور تحفظ نہیں ملتا تو ایسے ماحول میں کام کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طبی عملے کے خلاف کسی بھی قسم کی بدسلوکی یا دباؤ برداشت نہیں کیا جائے گا اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہئے۔