عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ’’بے روزگاری میں مزید اضافہ‘‘ کر رہی ہے اور ’’حکومت کے تمام اختیارات ایک شخص کے ہاتھوں میں مرتکز کرکے جمہوریت اور جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے۔ جنوبی کشمیر کے کھنہ بل اور اچھہ بل میں پارٹی کنونشنوںسے خطاب کرتے ہوئے بخاری نے کہا، ’’ایک طرف حکومت نے نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے وعدے کیے، جبکہ دوسری طرف انہی مواقع کو ملازمتوں کی آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ان سے چھین لیا۔ بے روزگاری کم کرنے کے بجائے اسے مزید بڑھا دیا گیا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حکومت برسراقتدار آنے کے بیس ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود روزگار پیدا کرنے کے لیے ایک بھی منصوبہ شروع کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے حکمران نیشنل کانفرنس پر اقتدار سنبھالنے کے بعد اختیارات کو ایک جگہ مرکوز کرکے جمہوری اداروں کو کمزور کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’جمہوریت میں انتخابات کا مقصد عوام کو بااختیار بنانا ہوتا ہے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد نیشنل کانفرنس نے تمام اختیارات ایک ہی فرد کے ہاتھ میں مرکوز کر دیے، جس سے نچلی سطح کی جمہوریت اور جمہوری ادارے کمزور ہوئے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اپنی پارٹی ایسی غیر جمہوری روش کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچیں۔
انہوں نے کہا، ’’2024 کے اسمبلی انتخابات کے دوران نیشنل کانفرنس نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ منسوخ شدہ آرٹیکل 370 کو بحال کرے گی۔ اس کے علاوہ بے روزگار نوجوانوں کو ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کرنے اور اقتدار میں آتے ہی ان تقرریوں کو یقینی بنانے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔نیشنل کانفرنس نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے عوام سے بے شمار وعدے کیے، لیکن ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں کیا گیا۔‘‘اچھہ بل کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے الطاف بخاری نے پارٹی کارکنوں کو یقین دلایا کہ اپنی پارٹی جلد ہی علاقے میں عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی تاکہ تنظیم کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور زمینی سطح پر پارٹی کی بنیاد کو وسعت دی جا سکے۔کھنہ بل میں عوام کو روایتی سیاسی جماعتوں سے نجات حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہاکہ جنوبی کشمیر کے عوام نے حکمران این سی–کانگریس اتحاد کو ساتوں نشستیں جتوائیں، مگر اس پورے خطے سے ایک بھی منتخب نمائندے کو وزارت کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے یہ روایتی سیاسی جماعتیں کامیابی حاصل کرنے کے بعد عوام کو ان کے مینڈیٹ کا صلہ دیتی ہیں۔انہوں نے کہا، ’’لیکن آج یہ حکومت مؤثر حکمرانی فراہم کرنے اور عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، اور اس کی حقیقت عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔‘‘