عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے شمالی ضلع بانڈی پورہ میں 100 سے زائد کنال زرعی اراضی پر مجوزہ پولیس رہائشی کالونی سے متعلق انتظامی کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے۔ عدالت نے ہدایت دی ہے کہ آئندہ حکم تک متنازعہ اراضی کے حوالے سے قانون کے مطابق کارروائی کے بغیر کوئی بھی انتظامی قدم نہ اٹھایا جائے۔یہ عبوری حکم جسٹس محمد یوسف وانی کی سنگل بنچ نے علی محمد پرےاور پتوشے (Putushay) گاؤں کے 14 دیگر رہائشیوں کی جانب سے دائر رِٹ درخواست کی ابتدائی سماعت کے دوران جاری کیا۔
عدالت نے مقامی کسانوں کے قبضے کو عارضی تحفظ فراہم کرتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کو نوٹس جاری کیے ہیں اور انہیں آئندہ سماعت سے قبل اپنا جواب داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت جولائی میں مقرر کی گئی ہے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ’’آئندہ احکامات تک اور مخالف فریق کے اعتراضات یا دلائل پر غور کیے جانے تک، جواب دہندگان قانون کے مقررہ طریقہ کار کے علاوہ درخواست کے موضوع میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کریں گے۔‘‘
درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ اشتیاق احمد میرنے عدالت کو بتایا کہ محکمہ مال کے اہلکار پولیس کی معاونت سے متنازعہ اراضی پر پہنچے، جہاں مبینہ طور پر زبردستی باڑ لگانے اور منصوبے کے بڑے سائن بورڈ نصب کرنے کی کوشش کی گئی۔درخواست کے مطابق سرکاری سائن بورڈ پر اس منصوبے کے لیے 110 کنال اور 2 مرلہ اراضی مختص ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، تاہم دیہاتیوں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے نہ تو حتمی حد بندی (Demarcation) مکمل کی اور نہ ہی متعلقہ قوانین کے تحت زمین کے حصول (Land Acquisition) کا باضابطہ عمل اختیار کیا، بلکہ براہِ راست زمین پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی۔
درخواست گزاروں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خاندان کئی نسلوں سے اس زمین پر قابض ہیں، جہاں دھان کی فصل اور اعلیٰ معیار کے سیب کے باغات موجود ہیں، جو ان کی روزی روٹی کا واحد ذریعہ ہیں۔ ان کے مطابق متنازعہ اراضی میں نجی ملکیتی زمین کے ساتھ ساتھ شاملات/کاہچرائی(مشترکہ چراگاہ) بھی شامل ہے۔انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر حکومت زمین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ بھی کرتی ہے تو بھی طویل عرصے سے قابض افراد کو قانونی کارروائی کے بغیر بے دخل کرنا یا کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچانا عدالتی نظائر کے خلاف ہے۔
درخواست میں منصوبے کے ماحولیاتی اثرات پر بھی شدید خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ دیہاتیوں کے مطابق مجوزہ پولیس کالونی ’’ولر جھیل‘‘کے حساس بفر زون کے قریب واقع ہے، جو بین الاقوامی سطح پر رامسر کنونشن کے تحت محفوظ ویٹ لینڈ ہے۔ان کا کہنا ہے کہ 100 سے زائد کنال پر مجوزہ تعمیرات نہ صرف ولر جھیل کے حفاظتی علاقے کو متاثر کریں گی بلکہ ہائی کورٹ کی ڈویژن بنچ اور نیشنل گرین ٹربیونل (NGT)کی جانب سے جاری ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ہدایات کے بھی منافی ہیں۔
عدالت نے درخواست کے ساتھ پیش کی گئی تصاویر اور دیگر شواہد کا جائزہ لینے کے بعد عبوری تحفظ فراہم کیا۔ اگرچہ عدالت نے زمین کی ملکیت کے حتمی سوال پر کوئی فیصلہ نہیں دیا، تاہم حکومت کے جواب داخل کرنے تک مجوزہ منصوبے سے متعلق تمام انتظامی سرگرمیوں پر روک لگا دی ہے، تاکہ مقامی ماحولیات اور کسانوں کے معاشی مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
بانڈی پورہ میں مجوزہ پولیس کالونی پر ہائی کورٹ کی روک،مقامی آبادی نے لگایا 100 سے زائد کنال زرعی اراضی کی’’زبردستی‘‘باڑ بندی کرنے کا الزام