آصف حسین الکشمیری
اولاد اللہ تعالیٰ کی ایک عظیم نعمت ہے، اور یہ وہ عطیۂ ربانی ہے جس کی تمنا خود انبیاء کرام علیہم السلام نے بھی اپنے ربّ کے حضور کی۔ قرآنِ مجید میں ہمیں بارہا ایسے مناظر ملتے ہیں جہاں اللہ کے برگزیدہ بندے تنہائیوں میں اپنے رب سے اولادِ صالح کی دعا کرتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ نیک اولاد نہ صرف دنیا کی زینت ہے بلکہ آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ یہی اولاد انسان کے لیے صدقۂ جاریہ بنتی ہے، اس کے اعمال کے سلسلے کو جاری رکھتی ہے اور اس کے بعد بھی اس کے لیے خیر و برکت کا ذریعہ بنتی رہتی ہے۔ لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اگر یہی اولاد صحیح تربیت سے محروم ہو جائے، اسے دینی اور اخلاقی بنیادیں نہ دی جائیں، تو یہی نعمت آزمائش بن جاتی ہے اور انسان کو دنیا و آخرت دونوں میں نقصان سے دوچار کر سکتی ہے۔ اسی لئے اسلام نے اولاد کے حقوق کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ بیان کیا ہے اور والدین کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
انسانی معاشرہ دراصل گھروں سے تشکیل پاتا ہے اور ہر گھر ایک چھوٹی سی درسگاہ ہوتا ہے جہاں ایک بچے کی سوچ، کردار اور مزاج کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ اگر اس درسگاہ میں تربیت کا عمل درست ہو تو یہی بچے آگے چل کر معاشرے کے معمار بنتے ہیں، لیکن اگر یہاں غفلت ہو جائے تو یہی بچے معاشرتی بگاڑ کا سبب بن جاتے ہیں۔ اس لیے اولاد کی تربیت کو محض ایک فطری ذمہ داری نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ سمجھنا چاہیے، جس کی جواب دہی انسان کو اللہ کے حضور کرنی ہوگی۔ والدین کی ہر چھوٹی بڑی حرکت، ہر لفظ اور ہر رویہ دراصل بچے کے لیے ایک سبق ہوتا ہے، جو اس کے ذہن و دل پر نقش ہوتا چلا جاتا ہے۔
ولادت کے وقت بچے کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے کان میں اذان اور اقامت کہی جائے تاکہ اس کی زندگی کا آغاز توحید کے اعلان سے ہو۔ یہ عمل بظاہر مختصر ہے مگر اپنے اندر ایک گہرا پیغام رکھتا ہے کہ اس بچے کی پہلی سماعت اللہ کی کبریائی اور رسول اکرمؐ کی رسالت کی گواہی ہو۔ اس کے بعد تحنیک کی سنت ادا کی جاتی ہے، جس میں بچے کے تالو پر کھجور یا کوئی میٹھی چیز لگا کر اس کی زندگی کا آغاز مٹھاس اور برکت سے کیا جاتا ہے۔ یہ ابتدائی اعمال اس بات کی علامت ہیں کہ اسلام میں تربیت کا آغاز پیدائش کے پہلے لمحے سے ہی ہو جاتا ہے اور یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی بنیادوں پر بھی قائم ہوتا ہے۔
عقیقہ اولاد کا ایک اہم حق ہے جسے اکثر والدین نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ اس کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ عقیقہ دراصل اللہ تعالیٰ کے حضور شکر ادا کرنے کا ایک عملی اظہار ہے، جس میں بچے کی طرف سے جانور ذبح کیا جاتا ہے اور اس کا گوشت مسلمانوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اہلِ علم نے لکھا ہے کہ عقیقہ بچے کے لیے آفات و مصائب سے حفاظت کا ذریعہ بنتا ہے اور اس کی زندگی میں خیر و برکت کے دروازے کھولتا ہے۔ اس کے ساتھ بچے کے سر کے بال منڈوا کر ان کے وزن کے برابر صدقہ دینا بھی سنت ہے، جو ایک طرف روحانی پاکیزگی کی علامت ہے اور دوسری طرف معاشرتی ہمدردی اور ایثار کا درس دیتا ہے۔ یہ تمام اعمال اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ اسلام میں ایک بچے کی پرورش صرف دنیاوی نہیں بلکہ دینی اور سماجی پہلوؤں کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
نام رکھنا ایک ایسا مرحلہ ہے جسے بظاہر معمولی سمجھ لیا جاتا ہے، مگر حقیقت میں اس کا اثر بچے کی پوری زندگی پر پڑتا ہے۔ ایک اچھا، بامعنی اور باوقار نام بچے کے اندر خود اعتمادی، مثبت سوچ اور ایک اعلیٰ شناخت پیدا کرتا ہے۔ اس لئے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کے نام انبیاء کرام، صحابہ کرام اور صلحاء کے ناموں پر رکھیں، تاکہ بچے کے اندر ایک پاکیزہ نسبت اور اچھے کردار کا جذبہ پیدا ہو۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں بے معنی اور عجیب و غریب نام رکھنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جو نہ صرف تہذیبی کمزوری کی علامت ہے بلکہ بچوں کی شخصیت پر بھی منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ نام محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک پیغام ہوتا ہے اور یہ پیغام جتنا پاکیزہ ہوگا، اس کے اثرات بھی اتنے ہی مثبت ہوں گے۔
قرآنِ مجید کی تعلیم اور دینی تربیت اولاد کا بنیادی حق ہے، جس کے بغیر ان کی زندگی ادھوری رہتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن سے جوڑیں، انہیں نماز کی عادت ڈالیں اور حلال و حرام کی تمیز سکھائیں۔ مگر اس کے ساتھ سب سے اہم چیز والدین کا اپنا کردار ہے، کیونکہ بچہ فطرتاً نقال ہوتا ہے۔ اگر وہ اپنے والدین کو سچ بولتے، نماز پڑھتے، اور اچھے اخلاق کا مظاہرہ کرتے دیکھے گا تو وہی صفات اس کے اندر پیدا ہوں گی۔ لیکن اگر وہ اپنے والدین کو جھوٹ بولتے، بدکلامی کرتے یا غلط عادات میں مبتلا دیکھے گا تو وہی چیزیں اس کی شخصیت کا حصہ بن جائیں گی۔
آج کے دور میں ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بہت سے والدین خود اپنے طرزِ عمل سے اولاد کی تربیت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بچوں کے سامنے سگریٹ نوشی کرنا، معمولی باتوں پر جھگڑنا، گھر میں نوک جھونک اور بدکلامی کرنا،یہ سب وہ مناظر ہیں جو بچے کے ذہن پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ بچہ جو دیکھتا ہے وہی سیکھتا ہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو ایک عملی نمونہ بنائیں۔ گھر کا ماحول جتنا پرسکون، باوقار اور دینی ہوگا، بچے کی شخصیت بھی اتنی ہی متوازن اور مثبت ہوگی۔
اگر بچے کی صحیح اور روحانی تربیت کی جائے، اس کے اندر ایمان، اخلاق اور شعور پیدا کیا جائے تو یہی اولاد والدین کے لیے جنت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ لیکن اگر بچے کو آوارہ چھوڑ دیا جائے، اس کی غلطیوں کو نظر انداز کیا جائے، اس کی اصلاح نہ کی جائے اور اس کے معاملات پر توجہ نہ دی جائے تو یہی اولاد جہنم کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی زندگی پر باریک بینی سے نظر رکھیں،ان کے دوست کون ہیں، وہ کن لوگوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، کہاں جاتے ہیں اور رات کو کس وقت گھر واپس آتے ہیں۔ یہ نگرانی سختی کے ساتھ نہیں بلکہ محبت، حکمت اور ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے، تاکہ بچہ خود کو محفوظ اور رہنمائی یافتہ محسوس کرے۔
تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ عظیم شخصیات کے پیچھے مضبوط تربیت ہوتی ہے۔ عبدالقادر جیلانی جب علم کے حصول کے لیے روانہ ہوئے تو ان کی والدہ نے صرف ایک نصیحت کی ،’’بیٹا! کبھی جھوٹ نہ بولنا۔‘‘ یہی ایک جملہ ان کی پوری زندگی کا اصول بن گیا۔ اسی طرح امام بخاری کی والدہ کی پاکیزگی اور حلال رزق کا اہتمام ان کی عظمت کا سبب بنا۔ انہوں نے فرمایا کہ’’میں نے کبھی بے وضو ہو کر اسے دودھ نہیں پلایا اور ہمیشہ حلال کا اہتمام کیا۔‘‘ یہ وہ تربیت تھی جس نے ایک عظیم محدث کو جنم دیا۔
اولاد کے حقوق میں عدل، محبت اور حسنِ سلوک بھی شامل ہیں۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی تمام اولاد کے ساتھ یکساں برتاؤ کریں، کیونکہ ناانصافی دلوں میں نفرت اور حسد کو جنم دیتی ہے۔ اسی طرح محبت اور شفقت بچوں کے اندر اعتماد، سکون اور قربت پیدا کرتی ہے، جبکہ سختی اور بے جا ڈانٹ ان کے اندر خوف اور بغاوت پیدا کرتی ہے۔ ایک متوازن اور حکمت پر مبنی تربیت ہی ایک مضبوط اور باکردار شخصیت کو جنم دیتی ہے۔
نکاح کے حوالے سے بھی والدین کو نہایت سنجیدہ اور حساس ہونا چاہیے۔ افسوس کہ بعض اوقات بچوں کی عمر چالیس سال کے قریب پہنچ جاتی ہے مگر والدین انہیں ’’ابھی چھوٹا ہے‘‘ کہہ کر نکاح میں تاخیر کرتے رہتے ہیں، جو نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ معاشرتی بگاڑ کا سبب بھی بنتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے کی تعلیم دی ہے تاکہ انسان فتنوں سے محفوظ رہے، اس لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بروقت نکاح کا اہتمام کریں اور اپنی اولاد کے لیے ایک پاکیزہ اور محفوظ راستہ فراہم کریں۔
آخر میں یہ حقیقت ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اولاد کی تربیت ایک مسلسل عبادت ہے، جو صبر، حکمت اور قربانی کا تقاضا کرتی ہے۔ یہ محض چند رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ زندگی ہے، جس میں ہر مرحلہ اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر والدین ان شرعی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو اخلاص کے ساتھ ادا کریں تو یہی اولاد ان کے لیے دنیا میں سکون، قبر میں روشنی اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بن جائے گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک صالح معاشرے، مضبوط خاندان اور روشن مستقبل کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
رابطہ ۔ 9797888975