ایجنسیز
لندن// برطانوی حکومت جمعرات کو ان ہزاروں غیر شادی شدہ ماؤں سے باضابطہ معافی مانگے گی جنہیں کئی دہائیوں تک اپنے نومولود بچوں سے زبردستی جدا کیا گیا۔ یہ عمل 1970 کی دہائی تک جاری رہا۔وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر اپنی وزارتِ عظمیٰ کے آخری ہفتوں میں ہاؤس آف کامنز میں بیان دیتے ہوئے جبری گود لینے کے واقعات میں ریاست کے کردار کا اعتراف کریں گے اور متاثرین سے معذرت کریں گے۔برطانیہ اْن ممالک میں شامل ہے جو سماجی روایات، مذہبی رویوں اور حکومتی پالیسیوں کی اس تلخ میراث کا جائزہ لے رہے ہیں، جن کے تحت غیر شادی شدہ ماؤں کو بدنام کیا جاتا تھا، حمل کے دوران اداروں میں رکھا جاتا تھا اور ان کے بچوں کو شادی شدہ جوڑوں کے حوالے کر دیا جاتا تھا۔اعداد و شمار کے مطابق 1949 سے 1976 کے درمیان انگلینڈ اور ویلز میں غیر شادی شدہ ماؤں کے تقریباً ایک لاکھ پچاسی ہزار بچوں کو گود دیا گیا۔ متاثرہ خواتین کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ان خواتین کو دباؤ، دھمکیوں اور دھوکے کے ذریعے اپنے بچوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا گیا۔برطانیہ کی سابق وزیرِ صحت این کین، جن کا بچہ 1966 میں اس وقت گود لے لیا گیا تھا جب وہ صرف 17 برس کی تھیں، نے کہا کہ وہ اس معافی کی منتظر ہیں کیونکہ اس سے برسوں سے چلی آنے والی شرمندگی کا خاتمہ ہوگا۔
انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، “ہمیں اس معافی کی ضرورت ہے کیونکہ ہمیشہ یہی کہا گیا کہ ہم نے اپنے بچے خود چھوڑ دیے، حالانکہ حقیقت یہ نہیں تھی۔ اب ہمارے پاس اس تاریخی غلطی کا ازالہ کرنے کا موقع ہے۔”2022 میں برطانوی پارلیمنٹ کی مشترکہ انسانی حقوق کمیٹی نے سفارش کی تھی کہ ریاست اْن عوامی اداروں اور سرکاری اہلکاروں کے باعث پیدا ہونے والے دکھ اور تکلیف پر معافی مانگے جنہوں نے ماؤں کو ان کی مرضی کے خلاف بچوں کو گود دینے پر مجبور کیا۔اسکاٹ لینڈ اور ویلز کی نیم خودمختار حکومتوں نے 2023 میں معافی جاری کی تھی، تاہم اْس وقت کی کنزرویٹو حکومت نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔لیبر حکومت کی جانب سے یہ معافی ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دو ہفتے قبل چرچ آف انگلینڈ نے بھی جبری گود لینے کے معاملات میں اپنے کردار پر معذرت کی تھی۔کینٹربری کی آرچ بشپ سارہ ملی نے کہا تھا، “ہم اْن تمام افراد کے درد، صدمے اور بدنامی پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہیں جو چرچ آف انگلینڈ سے وابستہ اداروں میں ماضی کی گود لینے کی پالیسیوں کے باعث متاثر ہوئے اور آج بھی اس کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔”دیگر ممالک بھی اس طرح کی تاریخ کا سامنا کر رہے ہیں۔ آسٹریلیا میں 2013 میں اْس وقت کی وزیرِ اعظم جولیا گلارڈ نے جبری گود لینے کی پالیسیوں اور ان سے پیدا ہونے والے عمر بھر کے دکھ پر قومی سطح پر معافی مانگی تھی۔آئرلینڈ بھی کیتھولک چرچ کے زیرِ انتظام “مدر اینڈ بے بی ہومز” کی تلخ میراث کا جائزہ لے رہا ہے، جہاں ہزاروں خواتین کو نامناسب حالات میں رکھا گیا۔ 2021 کی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا تھا کہ 20ویں صدی کے دوران ایسے 18 مراکز میں تقریباً 9 ہزار بچوں کی موت واقع ہوئی۔آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم میہول مارٹن نے ان اداروں میں رہنے والی ماؤں اور ان کے بچوں کے ساتھ ہونے والی “گہری اور نسلوں تک اثر انداز ہونے والی ناانصافی” پر معافی کا اظہار کیا۔