محمد مسلم کبیر
اسلام میں نکاح صرف دو افراد کا باہمی معاہدہ نہیں بلکہ دو خاندانوں، دو سوچوں اور دو زندگیوں کا حسین امتزاج ہے۔ یہ ایک مقدس رشتہ ہے جس کی بنیاد محبت، اعتماد، ایثار، اخلاق اور ذمہ داری پر قائم ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج کے دور میں نکاح کے فیصلے اکثر ظاہری خوبصورتی، وقتی جذبات، دولت یا سماجی دباؤ کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعد از نکاح بے شمار مسائل جنم لیتے ہیں۔اسلام نے نکاح سے قبل غور و فکر، تحقیق اور مشورے کی تعلیم دی ہے تاکہ آنے والی زندگی سکون، اعتماد اور خوشیوں سے بھرپور ہو۔ اس لیے نکاح سے پہلے چند بنیادی نکات پر سنجیدگی سے غور کرنا بے حد ضروری ہے۔
(۱) میڈیکل ٹیسٹ کی اہمیت:
صحت مند معاشرہ صحت مند خاندان سے وجود میں آتا ہے۔ نکاح سے قبل میڈیکل ٹیسٹ کروانا نہ صرف عقلمندی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے تحفظ کا ذریعہ بھی ہے۔ بعض موروثی بیماریاں، خون کی خرابیاں یا متعدی امراض بعد میں گھریلو پریشانیوں کا سبب بن سکتے ہیں۔آج دنیا بھر میں طبی معائنہ ایک ضروری اقدام سمجھا جا رہا ہے تاکہ شوہر و بیوی ایک دوسرے کی صحت سے آگاہ ہوں اور مستقبل میں کسی بڑے نقصان سے بچ سکیں۔ اسلام بھی احتیاط، صفائی اور انسانی جان کے تحفظ کی تعلیم دیتا ہے۔ لہٰذا میڈیکل ٹیسٹ کو معیوب سمجھنے کے بجائے ایک ذمہ دارانہ عمل سمجھنا چاہیے۔
(۲)داخلی اخلاق و عادات:
خوبصورتی وقتی ہوتی ہے مگر اخلاق ہمیشہ باقی رہتے ہیں۔ نکاح سے قبل صرف چہرہ نہیں بلکہ کردار دیکھنا ضروری ہے۔ انسان کا غصہ، گفتگو کا انداز، برداشت، سچائی، امانت داری، والدین کے ساتھ رویہ، نماز و عبادات کی پابندی اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک اُس کی اصل شخصیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ا کثر رشتے اس لیے ناکام ہوتے ہیں کہ لوگ ظاہری چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں مگر اخلاقی تربیت اور مزاجی ہم آہنگی کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ایک اچھا اخلاق رکھنے والا انسان غربت میں بھی سکون دیتا ہے جبکہ بداخلاق شخص دولت کے باوجود زندگی کو عذاب بنا دیتا ہے۔
(۳) خاندانی پس منظر:
نکاح صرف دو افراد نہیں بلکہ دو خاندانوں کا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے خاندان کی دینی فضا، تربیت، رسم و رواج، تعلیم، اخلاقی ماحول اور سماجی رویّوں کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔اگر دونوں خاندانوں کی سوچ، اقدار اور طرزِ زندگی میں حد سے زیادہ فرق ہو تو بعد میں اختلافات پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس لیے رشتہ طے کرتے وقت خاندان کے ماحول، عزت، شرافت اور تربیت کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ اچھا خاندان اولاد کی بہترین تربیت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
(۴) معاشی نظام اور ذمہ داریاں:
ازدواجی زندگی صرف محبت سے نہیں چلتی بلکہ ذمہ داری، منصوبہ بندی اور معاشی توازن بھی ضروری ہوتا ہے۔ نکاح سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آمدنی کا ذریعہ کیا ہے، اخراجات کا انداز کیسا ہے، مستقبل کی منصوبہ بندی موجود ہے یا نہیں، اور مالی معاملات میں دیانت داری کتنی ہے۔ضرورت سے زیادہ فضول خرچی، قرضوں کا بوجھ یا غیر ذمہ دارانہ مالی رویہ بعد میں گھریلو جھگڑوں کا سبب بن سکتا ہے۔ اسلام اعتدال، قناعت اور حلال رزق کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے دولت کی نمائش کے بجائے حلال، باعزت اور متوازن معاشی نظام کو اہمیت دینی چاہیے۔
(۵) سماجی زندگی اور معاشرتی رویّے:
انسان جس ماحول میں رہتا ہے اُس کا اثر اُس کی شخصیت پر ضرور پڑتا ہے۔ نکاح سے پہلے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ سامنے والے کی سماجی زندگی کیسی ہے، دوستوں کا حلقہ کیسا ہے، معاشرے میں اُس کا کردار کیا ہے اور وہ لوگوں کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔بعض لوگ گھر میں اچھے نظر آتے ہیں مگر سماجی طور پر غیر ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض افراد سوشل میڈیا، فضول محفلوں یا غلط صحبتوں میں اس قدر مگن ہوتے ہیں کہ خاندانی زندگی متاثر ہونے لگتی ہے۔ اس لیے سماجی رویّوں کا جائزہ لینا بھی ایک دانشمندانہ قدم ہے۔
(۶)اسلام کی خوبصورت تعلیم:
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے معاملے میں دین، اخلاق اور کردار کو بنیادی اہمیت دی ہے۔ اگر نکاح صرف مال، خوبصورتی یا شہرت کی بنیاد پر ہوگا تو وقتی کشش تو پیدا ہوسکتی ہے مگر دائمی سکون حاصل نہیں ہوگا۔ کامیاب ازدواجی زندگی کے لیے ایمان، اخلاق، اعتماد اور باہمی احترام ضروری ہیں۔
نکاح زندگی کا سب سے اہم فیصلہ ہے، اس لیے جذبات کے بجائے حکمت، تحقیق اور مشورے سے فیصلہ کرنا چاہیے۔ صرف چند دن کی خوشیوں کے لیے پوری زندگی کو آزمائش میں ڈال دینا دانشمندی نہیں۔ اگر نکاح سے قبل صحت، اخلاق، خاندان، معاشی نظام اور سماجی زندگی جیسے نکات پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو بے شمار گھریلو مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔
رابطہ۔8208435414