عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// کشمیر میں شادیوں کے سیزن کے عروج کے دوران مٹن کی سپلائی میں پیدا ہونے والی رکاوٹ نے جموں و کشمیر کی غذائی سلامتی سے متعلق ایک بڑے اور دیرینہ مسئلے کو نمایاں کر دیا ہے۔ اس بحران نے واضح کر دیا ہے کہ جموں و کشمیر آج بھی اپنی مٹن کی ضروریات پوری کرنے کیلئے بڑی حد تک بیرونی ریاستوں سے درآمد کئے جانے والے زندہ بھیڑ اور بکریوں پر انحصار کرتا ہے۔اس بحران کی فوری وجہ پنجاب سے گزرنے والے مویشی بردار ٹرکوں سے مبینہ طور پر غیر قانونی وصولیاں بتائی جا رہی ہیں تاہم اس صورتحال نے جموں و کشمیر میں مٹن کی بڑھتی ہوئی کھپت اور مقامی پیداوار کے درمیان موجود وسیع فرق کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔آل کشمیر ہول سیل مٹن ڈیلرز یونین نے اعلان کیا ہے کہ اس نے بیرونی ریاستوں سے زندہ بھیڑ اور بکریوں کی نئی کھیپ منگوانا عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ یونین کا الزام ہے کہ پنجاب سے گزرتے وقت مویشی بردار ٹرکوں سے 20 ہزار سے 25 ہزار روپے تک کی غیر قانونی رقم وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث مویشیوں کی نقل و حمل معاشی طور پر ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے۔
یونین کے جنرل سیکریٹری معراج گنائی نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے بیرونی ریاستوں سے مویشی درآمد نہیں کیے جا رہے۔ ان کے مطابق کشمیر میں دستیاب پرانا ذخیرہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اس کے باعث شادی بیاہ کی تقریبات بھی متاثر ہونے لگی ہیں۔انہوں نے کہا’’ ہم گزشتہ کئی روز سے مویشی درآمد نہیں کر رہے ہیں۔ کشمیر میں جو اسٹاک پہلے سے موجود تھا، وہ تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ شادیوں کی تقریبات متاثر ہو رہی ہیں، لیکن ہمارے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں‘‘۔ پنجاب سے گزرتے وقت ہر ٹرک سے 20 ہزار سے 25 ہزار روپے تک وصول کئے جا رہے ہیں۔ یہ وصولیاں غیر قانونی ہیں اور اس کے باعث مویشیوں کی ترسیل ہمارے لیے ممکن نہیں رہی۔ یونین کے مطابق شادیوں کے سیزن کے دوران روزانہ تقریباً 70 ٹرک بھیڑ اور بکریاں لے کر کشمیر پہنچتے ہیں۔ ہر ٹرک میں تقریباً 20 لاکھ روپے مالیت کے مویشی ہوتے ہیں، اس طرح روزانہ تقریباً 14 کروڑ روپے مالیت کی مویشی تجارت اس وقت متاثر ہو رہی ہے۔یہ تمام مویشی بنیادی طور پر راجستھان، ہریانہ، گجرات اور اتر پردیش سے خریدے جاتے ہیں اور پنجاب کے راستے جموں و کشمیر پہنچائے جاتے ہیں۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا براہِ راست اثر کشمیر کے تھوک بازاروں، قصابوں، پرچون فروشوں اور عام صارفین پر پڑتا ہے۔یہ معاملہ اب اعلیٰ سیاسی سطح تک پہنچ چکا ہے۔