جاوید اقبال
مینڈھر// سرحدی تحصیل بالاکوٹ کے مختلف سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام نے انتظامیہ اور لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی ہے کہ انہیں بنیادی سہولیات فوری طور پر فراہم کی جائیں تاکہ سرحدی پٹی میں بسنے والے لوگوں کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آزادی کے کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود آج بھی سرحدی علاقوں کے متعدد دیہات بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کو روزمرہ زندگی میں شدید پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق سرحدی دیہات میں بجلی کا نظام انتہائی خستہ حال ہے اور اکثر علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔ کئی مقامات پر بجلی کی ترسیلی لائنیں بوسیدہ ہو چکی ہیں، جس کے باعث معمولی بارش یا تیز ہوا کے دوران بجلی سپلائی متاثر ہو جاتی ہے۔
لوگوں نے کہا کہ پینے کے صاف پانی کی شدید قلت بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ بعض دیہات میں خواتین اور بزرگوں کو پانی لانے کے لیے کئی کلومیٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے، جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔مقامی باشندوں نے بتایا کہ کئی دیہات آج بھی سڑک جیسی بنیادی سہولت سے محروم ہیں۔ سڑک نہ ہونے کی وجہ سے مریضوں، بزرگوں اور طلبہ کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں نے کہا کہ روزمرہ ضروریات کا سامان کئی کلومیٹر تک کندھوں پر اٹھا کر پیدل لے جانا پڑتا ہے، جس سے خاص طور پر خواتین، بزرگ اور مزدور طبقہ سخت پریشان ہے۔ بارش کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے اور بعض دیہات کا رابطہ مکمل طور پر منقطع ہو جاتا ہے۔اس سلسلے میں سماجی کارکن ظہیر خان نے کہا کہ سرحدی پٹی میں رہنے والے لوگ ہمیشہ مختلف مسائل اور خطرات کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ سرحدی علاقوں کی ترقی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائے تاکہ یہاں کے عوام کو بھی دیگر علاقوں کی طرح بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔ ان کے مطابق بجلی، پانی، سڑک، صحت اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ظہیر خان نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں قائم حفاظتی بنکروں کی حالت بھی انتہائی خستہ ہو چکی ہے۔ کئی بنکر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کے لیے محفوظ نہیں رہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان بنکروں کی فوری مرمت اور مضبوطی کو یقینی بنایا جائے تاکہ گولہ باری یا دیگر ہنگامی حالات کے دوران مقامی لوگ محفوظ رہ سکیں اور اپنی قیمتی جانوں کا تحفظ کر سکیں۔عوام نے لیفٹیننٹ گورنر اور ضلع انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ سرحدی علاقوں کے مسائل کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری اقدامات کریں تاکہ سرحدی عوام کو بنیادی سہولیات فراہم ہو سکیں اور ان کی مشکلات میں کمی لائی جا سکے۔