محمد بشارت
کوٹرنکہ// راجوری ضلع کے کوٹرنکہ علاقے میں اْس وقت صفِ ماتم بچھ گئی جب جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مزدوری کے سلسلے میں گئے ایک 22 سالہ نوجوان کی مشکوک حالت میں لاش برآمد ہوئی۔ نوجوان کی اچانک موت کی خبر سنتے ہی پورے علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی جبکہ اہل خانہ کا رو رو کر برا حال ہے۔پیر کے روز پلوامہ ضلع کے دیری علاقے میں ایک خیمے کے اندر نوجوان کی لاش مشتبہ حالت میں پائی گئی۔ مقامی لوگوں نے جب نوجوان کو خیمے کے اندر لکڑی کے شہتیر سے لٹکا ہوا دیکھا تو فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس کی ٹیم موقع پر پہنچی اور صورتحال کا جائزہ لیا۔
حکام کے مطابق پولیس نے لاش کو اپنی تحویل میں لے کر قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔ بعد ازاں لاش کو پوسٹ مارٹم اور دیگر طبی و قانونی لوازمات کی تکمیل کیلئے ہسپتال منتقل کیا گیا تاکہ موت کی اصل وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے۔متوفی کی شناخت امتیاز حسین چیچی ولد محمد صادق چیچی ساکن کوٹرنکہ، ضلع راجوری کے طور پر ہوئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نوجوان روزگار کے سلسلے میں پلوامہ کے دیری علاقے میں مقیم تھا جہاں وہ مزدوری کا کام کرتا تھا۔ نوجوان کی پراسرار موت کی خبر ملتے ہی اہل خانہ اور رشتہ داروں میں کہرام مچ گیا۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ امتیاز حسین ایک محنتی اور خوش اخلاق نوجوان تھا جو اپنے خاندان کی کفالت کیلئے کشمیر میں مزدوری کر رہا تھا۔ اس کی اچانک موت نے پورے علاقے کو سوگوار کر دیا ہے۔ کوٹرنکہ میں لوگوں کی بڑی تعداد متوفی کے گھر پہنچی اور اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا۔ادھر پولیس نے بھارتی شہری تحفظ سنہتا (BNSS) کی دفعہ 194 کے تحت مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ نوجوان کی موت کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آئیں گے۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں سے گریز کریں اور تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار کریں۔