جاوید اقبال
مینڈھر// جموں و کشمیر بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ کانفرنس نے سرحدی ضلع پونچھ میں عوامی ٹرانسپورٹ کے ناقص نظام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مناسب اور قابلِ اعتماد ٹرانسپورٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث عوام کو روزانہ شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ تنظیم نے کہا کہ طلبہ، سرکاری و نجی ملازمین، مریضوں، بزرگ شہریوں اور دور دراز دیہات کے رہائشی سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔بی اے ڈی سی کے چیئرمین اور سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے ایک بیان میں کہا کہ ضلع پونچھ میں عوامی ٹرانسپورٹ کا نظام انتہائی خستہ حال ہو چکا ہے اور یہ عوام کی بنیادی سفری ضروریات پوری کرنے میں ناکام ثابت ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعدد دیہات آج بھی مناسب ٹرانسپورٹ سہولیات سے محروم ہیں جبکہ محدود تعداد میں چلنے والی بسوں اور مسافر گاڑیوں کی وجہ سے شدید بھیڑ، طویل انتظار اور غیر ضروری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرحدی اور پہاڑی علاقوں میں رہنے والے لوگ سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہاں قابلِ اعتماد سفری سہولت دستیاب نہیں ہے۔ طلبہ کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں دشواری پیش آتی ہے جبکہ مریضوں اور بزرگ شہریوں کو اسپتالوں تک سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے کہا کہ مؤثر عوامی ٹرانسپورٹ تعلیم، صحت، روزگار اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے جموں و کشمیر حکومت اور محکمہ ٹرانسپورٹ سے مطالبہ کیا کہ فوری اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ مزید بس سروسز شروع کی جائیں، دور دراز علاقوں تک ٹرانسپورٹ رابطے بہتر بنائے جائیں اور موجودہ روٹس کو ازسرِ نو منظم کیا جائے تاکہ عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آ سکیں۔بی اے ڈی سی نے کہا کہ عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کو مضبوط بنانے سے نہ صرف لوگوں کی زندگی آسان ہوگی بلکہ سرحدی ضلع پونچھ کی سماجی و اقتصادی ترقی کو بھی فروغ ملے گا۔ تنظیم نے امید ظاہر کی کہ متعلقہ حکام عوامی مفاد میں اس اہم مسئلے کے حل کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں گے۔