سمارٹ میٹر نصب کرنے سے قبل سنگیوٹ میں بجلی نظام بہتر بنانے کا مطالبہ
جاوید اقبال
مینڈھر// سب ڈویژن مینڈھر کے سنگیوٹ علاقے کے مکینوںنے تحصیل اور ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ سمارٹ بجلی میٹر نصب کرنے سے قبل علاقے میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ عوام کو محفوظ اور معیاری بجلی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کا نظام کئی برسوں سے خستہ حالی کا شکار ہے اور متعدد مقامات پر بجلی کی تاریں لکڑی کے کمزور کھمبوں کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں، جبکہ کئی جگہوں پر تاریں زمین کے انتہائی قریب یا زمین سے لگی ہوئی ہیں، جو کسی بھی وقت بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہیں۔علاقہ مکینوں کے مطابق بارش اور تیز ہواؤں کے دوران بجلی کی تاریں مزید خطرناک شکل اختیار کر لیتی ہیں، جس سے نہ صرف انسانی جانوں بلکہ مویشیوں اور املاک کو بھی شدید خطرات لاحق رہتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ کئی بار متعلقہ محکمہ کو اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا، لیکن اس کے باوجود زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سمارٹ میٹر منصوبہ ایک اچھا اقدام ہو سکتا ہے، مگر اس سے پہلے ضروری ہے کہ بنیادی سہولیات اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔اس سلسلے میں معروف سوشل ورکر عامر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ بجلی کو چاہیے کہ وہ پہلے پورے علاقے کے بجلی نظام کا سروے کرے اور جہاں جہاں ناقص تاریں، کمزور کھمبے یا غیر محفوظ کنکشن موجود ہیں، انہیں فوری طور پر تبدیل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ سمارٹ میٹر نصب کرنے میں کوئی اعتراض نہیں، تاہم صارفین کی حفاظت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق قواعد و ضوابط کے تحت کھمبے سے لے کر صارف کے میٹر تک معیاری اور محفوظ تاریں بچھانا محکمہ کی ذمہ داری ہے۔عامر خان نے مزید کہا کہ سنگیوٹ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں بجلی کی ترسیل کا نظام جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ کئی دیہات میں پرانے تار اور بوسیدہ کھمبے استعمال ہو رہے ہیں، جس کے باعث آئے روز بجلی کی سپلائی متاثر ہوتی ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہوگا۔انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر بجلی کے ناقص نظام کو درست کیے بغیر سمارٹ میٹر نصب کرنے کی کوشش کی گئی تو عوام بڑے پیمانے پر احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی صورتحال کی مکمل ذمہ داری محکمہ بجلی کے متعلقہ افسران اور انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ عوام نے ضلع انتظامیہ سے اپیل کی کہ وہ معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لے کر فوری اقدامات کرے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے اور عوام کو محفوظ بجلی نظام میسر آ سکے۔