میر شوکت
صبح ابھی پوری طرح پیدا نہیں ہوئی تھی۔ رات اور دن کے درمیان ایک دھندلاسا معاہدہ جاری تھا۔ ڈل جھیل پر دھند ایسے بچھی ہوئی تھی جیسے کسی بوڑھے کاتب نے اپنی ادھ لکھی تاریخ پر سفید کاغذ ڈال دیا ہو۔ زبرون کی پہاڑیاں دور خاموش کھڑی تھیں۔ ان کی خاموشی میں صدیوں کی تھکن تھی۔ چناروں کے پتوں پر شبنم کے قطرے یوں لرز رہے تھے جیسے کسی شاعر کے ادھورے مصرعے آنکھوں میں ٹھہر گئے ہوں۔ جھیل کے کنارے بندھی شِکاروں کی قطار کسی خوابیدہ قافلے کا منظر پیش کر رہی تھی اور ہوا میں سیب، گیلی مٹی اور پرانی یادوں کی ملی جلی خوشبو تیر رہی تھی۔ایسے میں میری نظر کشمیر کی اُس مخلوق پر پڑی جو شاید اس وادی کی سیاست سے بھی زیادہ مستقل، تاریخ سے بھی زیادہ قدیم اور وعدوں سے بھی زیادہ کثیر تعداد میں پائی جاتی ہے۔کُتّے!آوارہ کُتّے!!وہی کُتّے جو ہر گلی میں ہیں، ہر بازار میں ہیں، ہر پل کے نیچے ہیں، ہر سرکاری دفتر کے باہر ہیں، ہر جلسے کے آس پاس ہیں اور ہر اُس جگہ موجود ہیں،جہاں انسان کسی مسئلے کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہو۔مجھے ہمیشہ لگتا تھا کہ یہ کُتّے محض کُتّے ہیں۔
پھر ایک دن مجھے احساس ہوا کہ شاید کشمیر میں سب سے زیادہ سیاسی، سب سے زیادہ فلسفی اور سب سے زیادہ حقیقت پسند مخلوق یہی ہے۔وہ اُس صبح ایک میدان میں جمع تھے۔بیٹھنے کا انداز ایسا تھا جیسے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس چل رہا ہو، فرق صرف یہ تھا کہ یہاں ویٹو پاور دانتوں کی مضبوطی سے طے ہوتی تھی۔درمیان میں ایک بوڑھا کُتّا بیٹھا تھا۔
اس کی ایک آنکھ آدھی بند تھی، ایک کان کٹا ہوا تھا اور دم میں وہی تھکن تھی جو عموماً اُن لوگوں میں ہوتی ہے جو پوری زندگی سچ بولتے رہے ہوں۔
میں قریب پہنچا۔اس نے مجھے دیکھا اور مسکرا کر بولا۔’’آ جاؤ صاحب! ویسے تو کشمیر میں سب ہماری مردم شماری کرتے رہتے ہیں، مگر ہماری تاریخ کوئی نہیں لکھتا۔‘‘
میں بیٹھ گیا۔کُتّےنے گردن اٹھائی اور چناروں کی طرف دیکھا۔’’ہم اور یہ چنار اس وادی کے سب سے پرانے گواہ ہیں۔‘‘
میں نے پوچھا۔’’فرق کیا ہے؟‘‘وہ بولا۔’’یہ خاموش رہتے ہیں، اس لیے دانش مند سمجھے جاتے ہیں۔ ہم بولتے ہیں، اس لیے آوارہ کہلاتے ہیں۔‘‘اجلاس میں قہقہہ گونج اٹھا۔
بوڑھا کُتّا بولا۔’’ہم نے کشمیر میں سب کچھ دیکھا ہے۔‘‘،’’مثلاً؟‘‘
’’ہم نے بادشاہ دیکھے، فقیر دیکھے، انقلابی دیکھے، مفاد پرست دیکھے، نجات دہندے دیکھے، نجات طلب دیکھے، وعدے دیکھے، قراردادیں دیکھیں، مذاکرات دیکھے، ناکام مذاکرات دیکھے، پھر اُن کے بارے میں ہونے والے مذاکرات بھی دیکھے۔‘‘پھر اُس نے لمبی سانس لی۔’’ہم نے اتنے حل دیکھے ہیں کہ اب مسئلے ہم پر ہنستے ہیں۔‘‘
ایک نوجوان کُتّا فوراً بولا۔’’اور بعض مسئلے تو اتنے پرانے ہیں کہ اُن کی عمر ہمارے بزرگوں کی نسلوں سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔‘‘بوڑھا کُتّا سر ہلا کر بولا۔’’یہ وادی عجیب جگہ ہے۔ یہاں خزاں میں پتے گرتے ہیں اور سیاست میں نظریات۔‘‘قہقہہ بلند ہوا۔میں نے پوچھا۔’’آپ لوگ دن بھر کرتے کیا ہیں؟‘‘کُتّا بولا۔’’وہی جو انسان کرتا ہے۔‘‘
’’یعنی؟‘‘
’’صبح اٹھتے ہیں، اپنے اپنے علاقے کا جائزہ لیتے ہیں، دوسروں پر شک کرتے ہیں، اپنے گروہ کے ساتھ بیٹھتے ہیں، مخالف گروہ پر بھونکتے ہیں اور شام تک خود کو حق پر ثابت کرتے رہتے ہیں۔‘‘میں ہنس پڑا۔کُتّا بولا۔’’فرق صرف یہ ہے کہ ہم اسے’’کُتے پن‘‘ کہتے ہیں، انسان اسے نظریہ کہتا ہے۔‘‘
چنار کے چند پتے ہوا میں لہرا کر نیچے گرے۔بوڑھے کُتّے نے انہیں غور سے دیکھا۔’’جانتے ہو؟‘‘
’’کیا؟‘‘۔’’چنار اور ہم میں ایک مماثلت ہے‘‘۔کون سی؟’’ہم دونوں ہر موسم میں مار کھاتے ہیں۔‘‘میں نے حیرت سے پوچھا۔’’کیسے؟‘‘
وہ بولا۔’’خزاں آئے تو چنار کے پتے جھڑتے ہیں۔ انتظامیہ آئے توہماری کُتّا شماری شروع ہو جاتی ہے۔‘‘مجمعہ ہنس ہنس کر دوہرا ہو گیا۔اسی دوران ایک موٹا ساکُتّا آیا۔اس کے چلنے کے انداز سے لگتا تھا جیسے سرکاری مہمان خانے میں مستقل رہائش رکھتا ہو۔بوڑھے کُتّے نے تعارف کروایا۔’’یہ ہمارے دانشور ہیں۔‘‘دانشورکُتے نے بیٹھتے ہی کہا۔
’’مسئلہ کُتے نہیں، انسان ہے۔‘‘میں نے پوچھا۔’’کیوں؟‘‘
وہ بولا۔’’ہم نے کبھی کسی کُتّے کو یہ کہتے نہیں سنا کہ پورا کشمیر صرف اُسی کا ہے۔‘‘میں خاموش رہا۔وہ بولا۔’’ہم ایک ہڈی پر لڑتے ہیں، انسان پورے مستقبل پر۔‘‘پھر اُس نے ڈل جھیل کی طرف اشارہ کیا۔’’وہ پانی دیکھ رہے ہو؟‘‘
’’جی۔‘‘’’ہزار سال سے بہہ رہا ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘
’’اور انسان اب تک فیصلہ نہیں کر سکا کہ اسے کس زاویے سے دیکھنا ہے۔‘‘اسی دوران دور سے ایک سیاح گزرا۔تمام کُتّے فوراً سیدھے ہو گئے۔میں نے پوچھا۔’’یہ کیا ہوا؟‘‘
بوڑھا کُتّا بولا۔’’سیاح ہمارے لیے وہی حیثیت رکھتے ہیں جو انتخابات بعض لوگوں کے لیے رکھتے ہیں۔‘‘۔’’کیسے؟‘‘’’امید پیدا ہو جاتی ہے۔‘‘پورا میدان قہقہوں سے گونج اٹھا۔
پھر اچانک بوڑھے کُتے کی آنکھوں میں سنجیدگی اتر آئی۔اس نے کہا۔’’ہم نے وادی کو روتے بھی دیکھا ہے۔‘‘خاموشی چھا گئی۔
’’ہم نے ماؤں کو انتظار کرتے دیکھا ہے، باپوں کو خاموش ہوتے دیکھا ہے، جوانوں کو خوابوں سمیت دفن ہوتے دیکھا ہے۔‘‘پھر اُس نے آہستہ سے کہا۔’’لیکن ہم نے ایک چیز اور دیکھی ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘۔’’ہر نسل یہ سمجھتی ہے کہ اُس کا دکھ سب سے بڑا ہے۔‘‘چنار کے پتے سرسرائے،جھیل خاموش رہی۔کُتّا بولا۔’’اور ہر نسل بھول جاتی ہے کہ یہی بات پچھلی نسل بھی کہتی تھی۔‘‘پھر وہ اچانک ہنس پڑا۔’’ویسے کشمیر میں ایک چیز کبھی نہیں بدلی۔‘‘’’کیا؟‘‘۔۔۔!’’ہر دور میں رہنما زیادہ تھے اور راستے کم۔‘‘مجمعہ پھر ہنسنے لگا۔ایک نوجوان کُتّا بولا۔’’یہاں ہر دوسرا شخص قافلے کی قیادت کرنا چاہتا ہے، حالانکہ آدھے لوگوں کو منزل کا پتہ ہی نہیں ہوتا۔‘‘بوڑھےکُتّے نے گردن ہلائی۔’’اور جو منزل جانتے ہیں، وہ اکثر قافلے میں شامل ہی نہیں ہوتے۔‘‘
سورج اب پوری طرح نکل آیا تھا۔ڈل جھیل سنہری ہو رہی تھی۔چناروں کے سائے سکڑنے لگے تھے۔بوڑھا کُتّا آہستہ آہستہ کھڑا ہوا۔اس نے اپنے جسم سے گرد جھاڑی۔پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔’’ایک بات لکھ لینا۔‘‘۔’’جی۔‘‘’’ہمیں ہمیشہ آوارہ کہا گیا۔‘‘
’’جی‘‘۔’’مگر ہم نے کبھی پہاڑوں کو تقسیم نہیں کیا، جھیلوں کو نظریات میں نہیں بانٹا، درختوں سے اُن کی شناخت نہیں پوچھی، ہوا سے اُس کا مسلک نہیں جانا۔‘‘پھر وہ ذرا رکا۔اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی۔’’اصل آوارگی سڑکوں پر نہیں ہوتی صاحب!‘‘میں خاموش ہو گیا۔وہ بولا۔’’اصل آوارگی خیالات میں ہوتی ہے۔‘‘اتنا کہہ کر وہ چل دیا۔باقی کُتّے بھی اُس کے پیچھے روانہ ہو گئے۔میں دیر تک اُنہیں جاتا ہوا دیکھتا رہا۔چنار اپنی جگہ کھڑے تھے۔پہاڑ اپنی جگہ موجود تھے۔ڈل اپنی جگہ تھی۔صرف انسان تھا جو مسلسل دوڑ رہا تھا، مسلسل سمجھا رہا تھا، مسلسل لڑ رہا تھا، مسلسل ثابت کر رہا تھا کہ سچ صرف اُس کے پاس ہے۔
دور کہیںکُتّوں کے بھونکنے کی آواز پھر سنائی دی۔اور نہ جانے کیوں اُس دن مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ شاید وہ کتے ایک دوسرے پر نہیں بھونک رہے تھے۔شاید وہ ہم پر ہنس رہے تھے۔شاید وہ صدیوں سے یہی کرتے آئے ہیں۔کیونکہ وادی کے چناروں کی طرح اُنہیں بھی معلوم ہے کہ موسم بدلتے ہیں، حکومتیں بدلتی ہیں، نعرے بدلتے ہیں، جھنڈے بدلتے ہیں، نقشے بدلتے ہیں، مگر انسان کی ضد نہیں بدلتی۔اور شاید اسی ضد کو دیکھ دیکھ کر کشمیر کے کُتّے اتنے فلسفی ہو گئے ہیں۔