تمام اضلاع کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کی ضرورت:وزیراعلیٰ
سرینگر//وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو برآمدات کے شعبے میں نئی نسل کے برآمد کنندگان تیار کرنے اور موجودہ برآمد کنندگان کی مضبوط حمایت کرنے کی ضرورت ہے تاکہ 2030 تک برآمدات کو دوگنا کرنے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی کاریگروں، صنعت کاروں، کسانوں اور سیلف ہیلپ گروپس کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وہ شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سینٹر (SKICC)میں منعقدہ انٹرنیشنل بائرسیلر میٹ 2026کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے، جس میں تقریبا 15 ممالک سے آئے ہوئے غیر ملکی خریداروں کے علاوہ ملکی برآمد کنندگان، صنعت کار، دستکار اور مختلف سیلف ہیلپ گروپس نے شرکت کی۔
اس موقع پر فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائزیشن (FIEO) کے نمائندے بھی موجود تھے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ یہ پلیٹ فارم جموں و کشمیر کی مصنوعات کو بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچانے اور نئے تجارتی مواقع پیدا کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔عمر عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر روایتی طور پر ایک برآمد کرنے والا خطہ رہا ہے، جہاں دستکاری اور مقامی مصنوعات زیادہ تر سیاحت کے ذریعے غیر رسمی طور پر دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچتی تھیں۔ سیاح یہاں سے مصنوعات خرید کر انہیں بیرون ملک لے جاتے تھے، جس کے نتیجے میں خریداروں اور دستکاروں کے درمیان طویل المدتی تجارتی تعلقات قائم ہوتے تھے۔ تاہم گزشتہ برسوں کے دوران سیاحت میں کمی اور حالات میں تبدیلی کے باعث مقامی صنعت کاروں اور دستکاروں کو اپنے کاروباری ماڈل میں تبدیلی لانا پڑی اور منظم برآمدی نظام کی ضرورت بڑھ گئی۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس وقت جموں و کشمیر کی تقریباً 98فیصد برآمدات صرف چار اضلاع سے ہوتی ہیں، جبکہ باقی اضلاع کا حصہ نہایت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف موجودہ برآمد کنندگان کی مدد کرنا نہیں بلکہ ایسے افراد کو بھی برآمد کنندہ بنانا ہے جو اس وقت صرف مقامی سطح پر اپنی مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ اس کے لیے برآمدی عمل کو آسان اور زیادہ موثر بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 2030 تک ملک کی برآمدات کو دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کے لیے جموں و کشمیر کے پاس محدود وقت باقی ہے۔ اس ہدف کے حصول کے لیے مصنوعات اور منڈیوں دونوں میں تنوع ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر ضلع کو برآمدی سرگرمیوں سے جوڑنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔