عظمیٰ ویب ڈیسک
بارہمولہ/بارہمولہ پولیس نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان تمام خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بارہمولہ میں ملی ٹینٹوں نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کیا، شہر کے مختلف سرکاری دفاتر پر فائرنگ کی، اور معزز وزیر اعلیٰ نے شری امرناتھ جی یاترا منسوخ کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔پولیس کے مطابق بارہمولہ میں کہیں بھی کسی قسم کا ملی ٹینٹ حملہ یا فائرنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا، جبکہ شری امرناتھ جی یاترا کی مجوزہ منسوخی سے متعلق اطلاعات بھی سراسر جھوٹی اور گمراہ کن ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس طرح کی من گھڑت معلومات جان بوجھ کر عوام میں خوف و ہراس پھیلانے، امن و امان کو متاثر کرنے اور جاری شری امرناتھ جی یاترا کے دوران عوامی اعتماد کو مجروح کرنے کی ایک منظم کوشش معلوم ہوتی ہے۔اس سلسلے میں پولیس نے ایف آئی آر درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ جعلی معلومات تیار کرنے، شائع کرنے اور سوشل میڈیا پر پھیلانے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس گمراہ کن مواد کو جان بوجھ کر شیئر یا فارورڈ کرنے والے افراد کے خلاف بھی قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بارہمولہ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر کسی بھی غیر مصدقہ خبر یا مواد کو شیئر یا فارورڈ کرنے سے گریز کریں، کیونکہ جعلی خبروں کی تشہیر نہ صرف غیر ضروری خوف و ہراس اور بدامنی کا سبب بنتی ہے بلکہ اس کے قانونی نتائج بھی برآمد ہو سکتے ہیں۔پولیس نے عوام سے پرامن رہنے، تحمل کا مظاہرہ کرنے اور صرف سرکاری حکومت اور پولیس کے مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر ہی اعتماد کرنے کی اپیل کی ہے۔