پرویز احمد
سرینگر //جموںو کشمیر میں خواتین تیزی سے موٹاپے کی شکار ہورہی ہیں۔ پچھلے 5سال کے دوران ان میں 7.3فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اسکے برعکس موٹاپے کے شکار مردوں میں 4.6فیصد کی کمی آئی ہے۔ وزارت صحت و خاندانی بہوکے اعداد و شمارکے مطابق سال 2021میں موٹاپے کی شکار خواتین کی مجموعی شرح 29.4فیصد تھی جو اب بڑھ کر 36.7فیصد ہوگئی ہے اور اس طرح ان میں مجموعی طور پر 7.3فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ ان خواتین میں 48.7فیصد شہری و قصبہ جات اور 33.3فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔معقول غذا کی کمی کی وجہ سے وزن کی کمی کی شکار خواتین میں 4.3فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ ان میں 10.3فیصد کا تعلق دیہی علاقوں جبکہ 6.6فیصد کا تعلق شہری وقصبہ جات کی خواتین شامل ہیں۔مردوں کے حوالے سے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ مردوں میں 4.2فیصد کا وزن کم ہوگیا ہے۔ وزن کی کمی کے شکا متاثرہ مردوں میںمجموعی شرح 9.5فیصد ہے جن میں 10.1دیہی اور 7.4فیصد کا تعلق شہری علاقوں سے ہے۔
موٹاپے کے شکار مردوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ سال 2021میں مجموعی طور پر 31.7فیصد کی شرح تھی جو اب کم ہوکر 27.1فیصد رہ گئی ہے اور اس طرح ان میں 4.6فیصد کی کمی آئی ہے۔ 27.1فیصد مردوں میں35.3فیصد شہری و قصبہ جات جبکہ24.7فیصد کا تعلق دیہی علاقوں سے ہے۔ماہر ہارمون و غدود ڈاکٹر نائرہ نور نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ خواتین میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کی بڑی وجہ کم جسمانی سرگرمی ہے۔‘‘ ڈاکٹر نائرہ کہتی ہیں کہ مالی صورتحال میں بہتری کی وجہ سے خواتین اب بازار میں دستیاب جنک فوڈ، تلے ہوئے کھانے اور وازوان کھانا زیادہ پسند کرتی ہیں جس کی وجہ سے وہ موٹاپے کا شکار ہورہی ہے۔ ڈاکٹر نائرہ نے بتایا ’’ بازار میں کھانوں کی صفائی کا کوئی بھی انتظام نہیں ہوتا ہے جس سے کھانے کی چیزیں بیماری پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روایتی کھانے کی چیزیوں کے بجائے بازار میں دستیاب کھانے پینے کی چیزٰن کھانے سے یا فاسٹ فوڈ کو ترجیح بنیادوں پر کھانے میں موجود کیمیات خواتین میں موجود مارمونز کے نظام کو بگاڑ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ موٹاپے اور دیگر بیماریوں کی شکار ہوتی ہیں جبکہ کچھ خواتین دفتری اور گھریلو کام کاج کی وجہ سے کھانا پینا چھوڑ دیتی ہیں اور وہ پوشن کی کمی کی شکار ہوکر کم وزن کی شکار ہوجاتی ہے۔مردوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر نائرہ نے بتایا کہ موجودہ دور میں سگریٹ نوشی اور تلی ہوئے کھانے کی چیزیں دستیابی کی وجہ سے مرد بھی موٹاپے کے شکار ہوجاتے ہیں لیکن ان کی شرح خواتین کے مقابلے میں کم ہے۔