ایجنسیز
نیویارک// امریکہ اور ایران نے 15 جون کو طویل جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے بعد پہلی بار ایک دوسرے پر براہِ راست حملے کیے ہیں، جس سے اس معاہدے کے مستقبل پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدرمسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کا بنیادی مقصد جنگ کا خاتمہ، آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ کھولنا اور لبنان میں کشیدگی کم کرنا تھا۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق، امریکی جنگی طیاروں نے جمعہ کی رات ایران کے جنوبی ساحل پر واقع میزائل اور ڈرون ذخائر اور ریڈار تنصیبات کو نشانہ بنایا۔امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے گزرنے والے سنگاپور کے پرچم بردار تجارتی جہاز ایور لوولی پر حملے کے جواب میں کی گئی، جسے عمان کے ساحل کے قریب ایک نامعلوم میزائل یا گولے نے نشانہ بنایا تھا۔اگرچہ ایران نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم اس کی تردید بھی نہیں کی۔صدر ٹرمپ نے اسے جنگ بندی معاہدے کی “احمقانہ خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج نے اسی حملے کے دوران داغے گئے مزید تین ڈرون بھی مار گرائے۔امریکی فوج نے ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی کارروائیوں نے بین الاقوامی تجارتی جہازرانی کی آزادی کو نقصان پہنچایا ہے، اور امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت جاری رکھے گا۔ایران نے کہا کہ امریکی حملے میں جنوبی صوبہ ہرمزگان کے شہر سیریک کے قریب ایک بندرگاہ کے اطراف کا علاقہ متاثر ہوا، تاہم بندرگاہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تمام سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق بندرگاہی حکام نے تصدیق کی کہ نہ انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا اور نہ ہی بندرگاہ کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کورنے اعلان کیا کہ اس نے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، تاہم حملوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔آئی آر جی سی نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو ایران کا جواب اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
ادھربحرین نے اپنے علاقے پر مبینہ ایرانی ڈرون حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی خودمختاری اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔اسی دوران برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریش نے اطلاع دی کہ ایک آئل ٹینکر کو نامعلوم گولے سے نشانہ بنایا گیا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔حالیہ کشیدگی کا بنیادی مرکز آبنائے ہرمز ہے، جو دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کا اہم ترین بحری راستہ ہے۔امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران نے عملی طور پر اس راستے کو محدود کر دیا تھا، جس سے عالمی توانائی بحران پیدا ہوا۔ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز پر انتظامی اختیار اسی کا ہے اور مستقبل میں یہاں سے گزرنے والے جہازوں سے فیس یا ٹول وصول کرنے کا حق بھی اسے حاصل ہونا چاہیے۔دوسری جانب امریکہ اور خلیجی ممالک نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی جہازرانی پر کوئی ٹول عائد نہیں کیا جا سکتا۔معاہدے کے مطابق، ایران نے 60 دن تک آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی بلامعاوضہ محفوظ آمدورفت یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔ ایران، عمان اور دیگر خلیجی ممالک کو آبنائے ہرمز کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر مذاکرات کرنا تھے۔ امریکہ اور ایران کو لبنان میں لڑائی ختم کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنے تھے۔تاہم معاہدے میں 60 دن بعد کے انتظامات کی وضاحت نہیں کی گئی۔امریکی تھنک ٹینک کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر تریتا پارسی کے مطابق حالیہ حملوں نے معاہدے کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں جھڑپیں جاری رہیں اور لبنان کے معاملے پر اختلافات برقرار رہے تو معاہدے کے برقرار رہنے کے امکانات کم ہو جائیں گے۔دوسری جانب امریکن یونیورسٹی آف روم کے تجزیہ کار آندریا دیسی کے مطابق یہ معاہدہ انتہائی نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور کسی بھی وقت ناکام ہو سکتا ہے، اگرچہ دونوں ممالک اس بات سے آگاہ ہیں کہ مکمل جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔فی الحال امریکہ اور ایران دونوں ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول، عالمی بحری تجارت اور علاقائی سلامتی بدستور کشیدگی کے اہم نکات بنے ہوئے ہیں۔ آنے والے دنوں میں مذاکرات کی کامیابی یا مزید فوجی کارروائیاں اس مفاہمتی یادداشت کے مستقبل کا تعین کریں گی۔