زہرالنساء
سرینگر//کشمیر سے حاصل کیے گئے ادویات کے چھ نمونوں کوسنٹرل ڈرگز سٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن کی تازہ ماہانہ ڈرگ کوالٹی نگرانی رپورٹ میں ’’معیاری معیار پر پورا نہ اترنے والی‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ غیر معیاری ادویات کی نشاندہی ایک معمول کی ریگولیٹری کارروائی ہے، تاہم رواں مالی سال کے دوران جموں و کشمیر ڈرگ اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن کی جانب سے حاصل اور جانچے گئے نمونوں سے متعلق معلومات کی عدم دستیابی نے ادویات کی حفاظت اور نگرانی کے نظام پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سی ڈی ایس سی او کی تازہ رپورٹ ملک بھر میں معیار پر پورا نہ اترنے والی 111 ادویات کے بیچز پر مشتمل ہے، جو مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے حاصل کیے گئے۔ ان ادویات کے نمونوں کا تجزیہ مرکزی اور ریاستی تجربہ گاہوں میں کیا گیا۔کشمیر سے معیار پر پورا نہ اترنے والی تمام ادویات کے نمونوں کی جانچ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری ، ڈل گیٹ میں کی گئی۔ ان میں ایسیلوفیناک پر مشتمل ادویات، ٹیلمیسارٹن پر مبنی فارمولیشنز اور دیگر عام طور پر تجویز کی جانے والی دوائیں شامل ہیں۔ یہ رپورٹیں مئی 2026 سے متعلق ہیں۔تاہم جموں و کشمیر میں توجہ صرف چھ غیر معیاری نمونوں کی موجودگی پر نہیں بلکہ مقامی سطح پر ادویات کی نگرانی سے متعلق عوامی معلومات کی عدم دستیابی پر بھی مرکوز ہے۔
ڈرگز اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن (DFCO) کی سرکاری ویب سائٹ کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ ادویات کی جانچ اور نمونہ برداری سے متعلق آخری عوامی معلومات مارچ 2026 میں جاری کی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے نہ تو ماہانہ رپورٹس، نہ نمونوں کی جانچ کا ریکارڈ، نہ ہی نفاذی کارروائیوں یا نگرانی کی تفصیلات عوام کے لیے جاری کی گئی ہیں۔اس صورتحال نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے کہ آیا اس وقت جموں و کشمیر میں ادویات کے نمونے باقاعدگی سے حاصل اور جانچے جا رہے ہیں یا نہیں؟ اگر ہاں، تو کتنے نمونوں کی جانچ ہوئی اور معیار کی جانچ میں کیا نتائج سامنے آئے؟ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ غیر معیاری ادویات تیار کرنے والے اداروں، تقسیم کاروں یا فروخت کنندگان کے خلاف کیا کارروائی کی گئی۔ادویات کے معیار کی نگرانی باقاعدہ اور سائنسی بنیادوں پر نمونہ برداری کے نظام پر منحصر ہوتی ہے۔ ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت فارمیسیوں، اسپتالوں اور ادویات کی تقسیم کے مراکز سے معمول کے مطابق نمونے حاصل کیے جاتے ہیں، جنہیں سرکاری لیبارٹریوں میں جانچا جاتا ہے تاکہ غیر معیاری، غلط لیبل والی یا جعلی ادویات کی نشاندہی کی جا سکے۔سی ڈی ایس سی او ہر ماہ این ایس کیو (NSQ) ادویات کی فہرست جاری کرتا ہے تاکہ شفافیت برقرار رہے اور اسپتالوں، فارمیسیوں اور مریضوں کو ان بیچز کے بارے میں آگاہ کیا جا سکے جو مقررہ معیار پر پورا نہیں اترتے۔رواں سال کے آغاز میں مرکزی وزارتِ صحت نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ملک بھر میں تقریباً پانچ لاکھ ادویات کے نمونوں کی جانچ کی جا چکی ہے۔ غیر معیاری ادویات کی نشاندہی اس بات کا ثبوت ہے کہ نگرانی کا نظام فعال ہے، تاہم اس کے ساتھ شفافیت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔جموں و کشمیر میں ماضی میں ادویات کی جانچ سے متعلق معلومات باقاعدگی سے سرکاری ویب سائٹ پر جاری کی جاتی رہی ہیں، مگر حالیہ خاموشی اور عوامی معلومات کی عدم فراہمی نے ایک معلوماتی خلا پیدا کر دیا ہے۔گزشتہ برسوں کے دوران محکمہ نے سرکاری اسپتالوں، بازاروں اور جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں تک ادویات کی نگرانی کا عمل جاری رکھا، جس کے نتیجے میں متعدد غیر معیاری ادویات کی نشاندہی کی گئی، عوام کو آگاہ کیا گیا اور متعلقہ بیچز واپس منگوائے گئے تاکہ عوامی صحت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران سرکاری اسپتالوں میں فراہم کی جانے والی ادویات اور نجی فارمیسیوں میں دستیاب متعدد ادویات کے نمونے بھی معیار کی جانچ میں ناکام قرار دیے جا چکے ہیں۔