ڈاکٹر شیخ جمشید
آپریشن سندور کی پہلی برسی محض ایک فوجی کارروائی کی سالگرہ نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں سلامتی، دہشت گردی اور ریاستی ردعمل کے بدلتے ہوئے رجحانات کا جائزہ لینے کا ایک اہم موقع ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران اس آپریشن نے نہ صرف سیکیورٹی پالیسیوں پر اثر ڈالا بلکہ کشمیر کے سیاسی، سماجی اور معاشی ماحول پر بھی نمایاں اثرات مرتب کئے۔
پہلگام حملہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اُجاگر کیا کہ دہشت گردی اب بھی خطے کے استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ بے گناہ شہریوں خصوصاً سیاحوں کو نشانہ بنانا صرف جانی نقصان تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد خوف پیدا کرنا، معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنا اور کشمیر کی مثبت شناخت کو نقصان پہنچانا بھی تھا۔ ایسے حملے عموماً اس وقت کئےجاتے ہیں جب خطے میں معمول کی زندگی بحال ہونے لگتی ہے اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔
کشمیر کی معیشت بنیادی طور پر امن سے جڑی ہوئی ہے۔ سیاحت، باغبانی، دستکاری اور چھوٹے کاروبار یہاں کے لاکھوں افراد کے روزگار کا ذریعہ ہیں۔ جب بھی تشدد میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے اثرات سب سے پہلے انہی شعبوں پر پڑتے ہیں۔ پہلگام حملے کے بعد بھی یہی صورتحال دیکھنے میں آئی، جہاں سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور مستقبل کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے۔ اس تناظر میں آپریشن سندور کو صرف ایک سکیورٹی اقدام کے طور پر نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی کی کوشش کے طور پر بھی دیکھا گیا۔
اس آپریشن کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ اس نے بھارت کی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی میں ایک واضح تبدیلی کی نشاندہی کی۔ ماضی میں اکثر ردعمل حملوں کے بعد دفاعی نوعیت کا ہوتا تھا جبکہ حالیہ برسوں میں پالیسی کا رجحان پیشگی کارروائی، انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی طرف بڑھا ہے۔ آپریشن سندور اسی سوچ کا تسلسل معلوم ہوتا ہے، جہاں مقصد صرف حملہ آوروں کو جواب دینا نہیں بلکہ ان نیٹ ورکس کی صلاحیت کو کمزور کرنا بھی تھا جو ایسے حملوں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں۔تاہم اس پورے معاملے کا ایک اہم سماجی پہلو بھی ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گردی کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام لوگوں کو ہوتا ہے۔ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تشدد، ہڑتالوں، نقل مکانی، نفسیاتی دباؤ اور معاشی غیر یقینی صورتحال نے ایک پوری نسل کو متاثر کیا ہے۔ اسی لئے آج کشمیر کے عوام کے ایک بڑے طبقے کی ترجیح سیاسی نعروں سے زیادہ امن، روزگار اور استحکام بن چکی ہے۔
پہلگام حملے کے بعد عوامی ردعمل نے بھی اس تبدیلی کی عکاسی کی۔ مختلف علاقوں میں لوگوں کی جانب سے دہشت گردی کی مذمت اور امن کے حق میں آواز بلند کرنا اس بات کا اشارہ تھا کہ کشمیری معاشرہ تشدد کے مسلسل چکر سے نجات چاہتا ہے۔ یہ رجحان سکیورٹی پالیسیوں کے لیے بھی اہم ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف فوجی کارروائیوں سے نہیں بلکہ عوامی حمایت اور سماجی استحکام سے بھی وابستہ ہوتی ہے۔
علاقائی سطح پر دیکھا جائے تو آپریشن سندور نے ایک بار پھر سرحد پار دہشت گردی کے مسئلے کو عالمی توجہ کا مرکز بنایا۔ بھارت مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کو بیرونی حمایت حاصل رہی ہے، جبکہ پاکستان ان الزامات کو مسترد کرتا آیا ہے۔ اس تنازع کے باوجود ایک حقیقت واضح ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک دہشت گردی کو ریاستی پالیسیوں، جغرافیائی سیاست اور پراکسی تنازعات سے الگ نہیں کیا جاتا۔
ایک سال بعد یہ کہنا شاید قبل از وقت ہو گا کہ آپریشن سندور نے تمام سیکیورٹی چیلنجز کا حل فراہم کر دیا ہے، لیکن اس نے یہ ضرور ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں اب زیادہ مربوط، معلومات پر مبنی اور طویل المدتی مقاصد کے ساتھ کی جا رہی ہیں۔ اصل امتحان اب یہ ہے کہ ان سیکیورٹی کامیابیوں کو عوامی فلاح، اقتصادی ترقی اور سماجی استحکام میں کس حد تک تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کشمیر کی تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ امن صرف بندوقوں کی خاموشی کا نام نہیں بلکہ ایسے ماحول کا قیام ہے جہاں نوجوانوں کو مواقع میسر ہوں، سرمایہ کاری بڑھے، سیاحت فروغ پائے اور لوگ مستقبل کے بارے میں اعتماد محسوس کریں۔ اگر آپریشن سندور کے بعد حاصل ہونے والی سکیورٹی برتری کو ترقی اور عوامی بہبود سے جوڑا جاتا ہے تو اس کے نتائج زیادہ دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔
پہلگام سے آپریشن سندور تک کا یہ ایک سال دراصل اس وسیع تر حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سرحدوں یا سکیورٹی اداروں تک محدود نہیں۔ یہ ایک ایسی جدوجہد ہے جس کا حتمی مقصد امن، استحکام اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل ہے جہاں خوف کی جگہ اعتماد اور غیر یقینی کی جگہ امید لے سکے۔
[email protected]