عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/کانگریس رکنِ پارلیمنٹ ششی تھرور کی سربراہی میں قائم پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کو لداخ کے دورے کے دوران خطے کو درپیش اہم ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز سے آگاہ کیا گیا، جن میں نازک ماحولیاتی نظام اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نمایاں ہیں۔
جمعرات کو کمیٹی نے لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ سے ملاقات کی، جنہوں نے ان مسائل سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے اراکین کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر بتایا کہ کمیٹی کو لداخ کے حساس ماحولیاتی نظام، ماحولیاتی خدشات اور پانی کی قلت جیسے اہم مسائل سے متعلق بریفنگ دی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے پانی کے تحفظ اور ماحولیات کی بحالی کے لیے ہِم سروور پروجیکٹ، سندھو جل سمردھی ابھیان کے تحت راک چیک ڈیموں کی تعمیر اور بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم جیسے اقدامات جاری ہیں۔ ان کے مطابق پارلیمانی کمیٹی نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے لداخ کی ترقیاتی اور ماحولیاتی ضروریات کے حل کے لیے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
دریں اثنا، کارگل کے دورے کے دوران پارلیمانی کمیٹی نے کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے خطے سے متعلق کئی دیرینہ سیاسی اور ترقیاتی مطالبات پیش کیے۔کے ڈی اے اور لیہ ایپکس باڈی (ایل اے بی)، لداخ کے دو اہم سول سوسائٹی پلیٹ فارم ہیں، جو خطے کے مطالبات کے سلسلے میں مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔ ان کے اہم مطالبات میں لداخ کو مکمل ریاست کا درجہ دینا، آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت آئینی تحفظ فراہم کرنا، الگ پبلک سروس کمیشن کا قیام اور سیاسی نمائندگی میں اضافہ شامل ہیں۔کے ڈی اے کے شریک چیئرمین سجاد کارگلی نے بتایا کہ انہوں نے لداخ کے رکنِ پارلیمنٹ حاجی حنیفہ جان اور شریک چیئرمین حاجی اصغر علی کربلائی کے ہمراہ ششی تھرور سے ملاقات کی اور لداخ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی گفتگو کی۔
“لیفٹیننٹ گورنرلداخ کی پارلیمانی کمیٹی سے اہم ملاقات؛ لداخ کے ترقیاتی اور ماحولیاتی چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ