عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نئے انکم ٹیکس قانون 2025 کے نفاذ کے بعد ملک بھر کے ٹیکس دہندگان میں یہ الجھن پیدا ہوگئی تھی کہ آیا مالی سال 2025-26 کی آمدنی کے لیے انہیں دو الگ الگ انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرانے ہوں گے یا نہیں۔ اس حوالے سے محکمہ انکم ٹیکس نے باضابطہ وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس دہندگان کو صرف ایک ہی ریٹرن داخل کرنا ہوگا۔محکمہ کی جانب سے جاری رہنما کتابچہ ’’کر سیتو‘‘ میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم اپریل 2026 سے نافذ ہونے والے نئے انکم ٹیکس قانون میں تخمینہ سال کی جگہ ٹیکس سال کا تصور متعارف کرایا گیا ہے، تاہم اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ہی آمدنی کے لیے دو الگ ریٹرن جمع کرانے پڑیں گے۔ وضاحت کے مطابق مالی سال 2025-26 (یکم اپریل 2025 تا 31 مارچ 2026) کے دوران حاصل ہونے والی آمدنی کے لیے صرف تخمینہ سال 2026-27 کے تحت ایک انکم ٹیکس ریٹرن جمع کرایا جائے گا۔ اس آمدنی کے لیے کوئی اضافی ٹیکس سال 2026-27 ریٹرن داخل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ محکمہ نے بتایا کہ ٹیکس سال 2026-27 دراصل یکم اپریل 2026 سے شروع ہونے والے نئے ٹیکس نظام کے تحت آنے والی آمدنی سے متعلق ہوگا۔ اس مدت کی آمدنی کا ریٹرن 2027 میں داخل کیا جائے گا، لہٰذا موجودہ سال کی آمدنی کے لیے دوہری فائلنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق نئے قانون کے نفاذ کے باعث کئی افراد اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ چونکہ تخمینہ سال اور ٹیکس سال دونوں اصطلاحات استعمال ہو رہی ہیں، اس لیے انہیں دو الگ الگ گوشوارے جمع کرانے ہوں گے۔ محکمہ انکم ٹیکس نے اس وضاحت کے ذریعے ان خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ ٹیکس دہندگان آسانی سے اپنی ریٹرن فائل کر سکیں۔ محکمہ کے مطابق مالی سال 2025-26 کی آمدنی کے لیے ریٹرن بدستور پرانے ITR فارموں کے ذریعے تخمہ سال 2026-27 کے تحت داخل کی جائے گی۔
نئے قانون کے باوجود اس عبوری مرحلے میں ٹیکس دہندگان کو کسی اضافی ریٹرن کی ضرورت نہیں ہوگی۔ حکام نے ٹیکس دہندگان کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی آمدنی، ٹیکس کٹوتیوں (TDS)، سرمایہ کاری اور دیگر مالیاتی معلومات کی درست جانچ کے بعد بروقت ریٹرن داخل کریں تاکہ کسی قسم کی پریشانی یا جرمانے سے بچا جا سکے۔