عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/پیر کے روز تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی موسلا دھار بارش نے سرینگر اور بڈگام کے کئی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا، جس کے نتیجے میں شدید آبی جماؤ، ٹریفک کی روانی میں خلل اور عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پانی میں ڈوبی گاڑیوں اور آٹو رکشاؤں کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔مقامی باشندوں نے بتایا کہ سرینگر کے خانیار، نوہٹہ، باغِ مہتاب اور حبہ کدل سمیت متعدد علاقوں اور وسطی ضلع بڈگام کے چاڈورہ علاقے میں شدید بارش کے بعد سڑکوں پر بڑی مقدار میں پانی جمع ہو گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق کئی مقامات پر گاڑیاں، کاریں اور آٹو رکشے پانی میں جزوی طور پر ڈوب گئے، جس کے باعث مسافروں کو اپنے راستے تبدیل کرنے پڑے اور متبادل راستوں کا سہارا لینا پڑا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی متعدد ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرینگر کے مختلف علاقوں کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کر رہی ہیں، جہاں گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور پیدل چلنے والے افراد پانی میں سے گزرنے پر مجبور ہیں۔ بعض ویڈیوز میں گاڑیوں کو سیلابی پانی سے گزرنے میں شدید دشواری کا سامنا کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
بارش کے باعث شہر کی اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوئی، جس سے مختلف مقامات پر ٹریفک جام اور تاخیر کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ شہریوں نے کئی علاقوں میں نکاسیٔ آب کے ناقص انتظامات پر سخت ناراضی کا اظہار کیا۔
خانیار کے ایک رہائشی نے کہا کہ معمولی بارش کے بعد بھی یہ علاقہ زیرِ آب آ جاتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نکاسیٔ آب کا موجودہ نظام بڑھتی ہوئی آبادی کا بوجھ اٹھانے میں ناکام ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا، ’’صرف ایک گھنٹے کی بارش نے سڑکوں اور گلیوں کو پانی میں ڈبو دیا۔ گاڑیاں پھنس گئیں اور راہگیر گندے پانی میں چلنے پر مجبور ہو گئے۔ ہر سال یہی صورتحال دہرائی جاتی ہے، حالانکہ بارہا یقین دہانیاں کرائی جا چکی ہیں۔‘‘ایک اور مقامی شہری نے کہا کہ اس بارش نے شہر کے مختلف علاقوں میں نکاسیٔ آب کے نظام کی خستہ حالی کو بے نقاب کر دیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور نکاسیٔ آب کے نظام کا جامع جائزہ لے کر مستقل بنیادوں پر مؤثر حل نکالے تاکہ عوام کو ہر بارش کے بعد مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ کی قیادت والی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہری سیلاب کی اس بار بار پیدا ہونے والی صورتحال کے تدارک کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں اور سرینگر کے نکاسیٔ آب کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔دریں اثنا، متعلقہ محکموں کی نگرانی ٹیمیں صورتحال کا جائزہ لے رہی ہیں اور متاثرہ علاقوں سے جمع شدہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے اقدامات جاری ہیں۔
ایک گھنٹے کی موسلا دھار بارش سے سرینگر زیرِ آب، شہریوں کا نکاسیٔ آب کے ناقص نظام پر اظہارِ برہمی، فوری حکومتی مداخلت کا مطالبہ