عدم موجودگی پر سوالات کھڑے کر دئیے
زہرالنساء
سرینگر//کشمیر میں جہاں نوجوان سکس پیک ایبس بنانے کے جنون میں مبتلا ہیں اور درمیانی عمر کے افراد بہتر صحت اور فٹنس کے حصول کے لیے کوشاں ہیں، وہیں فٹنس انڈسٹری تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ جم کی رکنیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور شہروں و قصبوں میں نئے فٹنس مراکز قائم ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا بھی اس رجحان کو مزید تقویت دے رہا ہے، جہاں مختصر وقت میں جسمانی تبدیلی کے خواب دکھائے جاتے ہیں۔تاہم، فٹنس کے اس بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ایک تشویشناک سوال بھی جنم لے رہا ہے کہ کیا ان جموں اور فٹنس مراکز میں حفاظتی معیارات پر عمل کیا جا رہا ہے؟حالیہ عرصے میں نوجوان جم استعمال کرنے والوں میں اچانک طبی ایمرجنسیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ کئی خبریں اور ویڈیوز مسلسل گردش کر رہی ہیں ،جن میں بتایا گیا ہے کہ ورزش کے دوران یا جم سیشن کے بعد بعض افراد فالج یا دل کے دورے کا شکار ہوئے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ بغیر نگرانی کے ورزش، حد سے زیادہ جسمانی مشقت اور بیشتر فٹنس مراکز میں ہنگامی طبی تیاریوں کا فقدان ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دی جانی چاہیے۔ایس ایم سلیم خان، جو گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے شعبہ سوشل اینڈ پریوینٹیو میڈیسن کے سابق سربراہ ہیں، کا کہنا ہے کہ جموں و کشمیر میں اس وقت جمز کے لیے کوئی باقاعدہ لائسنسنگ نظام موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا،’’کوئی بھی شخص کہیں بھی جم کھول سکتا ہے اور کسی کو بھی داخلہ دے سکتا ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ایسے بے شمار شواہد موجود ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ کشمیر میں جمز کی حفاظت کے معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔انہوں نے مزیدکہا،’’یہ ایک غیر منظم اور بلند خطرے والا شعبہ ہے۔‘‘پروفیسر خان کے مطابق بیشتر جمز میں تربیت یافتہ عملہ موجود نہیں ہوتا۔انہوں نے کہا،’’زیادہ تر ٹرینرز اس اصول پر کام کرتے ہیں کہ جو چیز ان کے لیے مفید رہی وہ دوسروں کے لیے بھی ہوگی۔ ان کے پٹھے ہی ان کی قابلیت کا سرٹیفکیٹ بن جاتے ہیں۔ انہیں نہ تو کسی تربیت پانے والے شخص میں خطرے کی علامات کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی مہارت حاصل ہوتی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جمز میں ہونے والی اموات کو معمول کا واقعہ سمجھا جانے لگا ہے۔ہم یہ اہم سوال نہیں پوچھ رہے کہ اینابولک سٹیرائیڈز، تھائروکسین یا دیگر سپلیمنٹس کا استعمال یا غلط استعمال کس حد تک ذمہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہر موت کا انفرادی بنیادوں پر طبی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ماہرین کے مطابق اگرچہ ورزش بذاتِ خود صحت کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم بعض افراد میں، خاص طور پر ان لوگوں میں جنہیں دل کی بیماری کا پہلے سے علم نہیں ہوتا، اچانک شدید جسمانی مشقت سنگین طبی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔گزشتہ ایک دہائی کے دوران کشمیر میں جمز اور فٹنس مراکز کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ رجحان بدلتے طرزِ زندگی اور صحت کے بڑھتے ہوئے شعور کی عکاسی کرتا ہے اور اب صرف نوجوانوں تک محدود نہیں رہا۔ درمیانی عمر کے افراد بھی بڑی تعداد میں فٹنس پروگراموں کا حصہ بن رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق بیشتر جموں میں صحت کی جانچ (ہیلتھ سکریننگ) کے لازمی طریقہ کار موجود نہیں ہیں۔ زیادہ تر مراکز میں آٹومیٹڈ ایکسٹرنل ڈیفبریلیٹر (AED) جیسی جان بچانے والی مشینیں تو درکنار، بنیادی ابتدائی طبی امداد (فرسٹ ایڈ) کی سہولت بھی موجود نہیں ہوتی۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے فٹنس کے شوقین ناصر گنائی نے کہا،’’زیادہ تر لوگ کئی سال کی جسمانی غیرفعالیت کے بعد جم جوائن کرتے ہیں، جبکہ انہیں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، موٹاپے یا دل کی پوشیدہ بیماریوں کا علم بھی نہیں ہوتا۔‘‘انہوں نے کہا کہ مناسب طبی جانچ کے بغیر سخت ورزش خطرناک ثابت ہو سکتی ہے اور بعض اوقات جان لیوا بھی۔پروفیسر سلیم خان نے مطالبہ کیا کہ کشمیر بھر کے جمز کا فوری آڈٹ کیا جائے، جس میں ٹرینرز کی اہلیت، ہنگامی ڈیفبریلیٹرز کی دستیابی، آلات کی دیکھ بھال، وینٹیلیشن اور تربیت حاصل کرنے والوں کی طبی جانچ جیسے نکات شامل ہوں۔انہوں نے کہا،’’جس طرح تعلیمی اداروں اور تجارتی مراکز کو حفاظتی اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح فٹنس مراکز کو بھی کم از کم حفاظتی معیارات کے تحت جانچا جانا چاہیے۔‘‘