طویل المدتی آپریشن کا مقصد علاقے میں ممکنہ ملی ٹینٹ عناصر کی موجودگی کو ختم کرنا
عظمیٰ نیوز سروس
راجوری //ضلع راجوری کے گھمبیر مغلاں علاقے کے گھنے جنگلات میں جاری ’آپریشن شیرئوالی‘ مسلسل 29ویں روز میں داخل ہو گیا ہے، جبکہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے سرچ اینڈ کارڈن آپریشن بدستور جاری ہے۔حکام کے مطابق یہ آپریشن مئی کے آخر میں اس اطلاع کے بعد شروع کیا گیا تھا کہ دھوری مہل۔گھمبیرمغلاں سیکٹر کے دشوار گزار پہاڑی اور جنگلاتی علاقے میں کچھ مسلح درانداز یا مشتبہ عناصر چھپے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سے سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر وسیع پیمانے پر تلاشی مہم شروع کر رکھی ہے۔اطلاعات کے مطابق راجوری کے یہ جنگلات انتہائی مشکل جغرافیائی صورتحال کے حامل ہیں، جہاں کھڑی ڈھلوانیں، گھنی جھاڑیاں اور محدود رسائی کے راستے سرچ آپریشن کو مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ اس کے باوجود سیکورٹی فورسز مسلسل علاقے میں موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں اور جدید نگرانی کے آلات، ڈرونز اور گراؤنڈ سرویلنس کے ذریعے مشتبہ نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق فوج اور دیگر سیکورٹی ایجنسیاں مشترکہ طور پر علاقے میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشن انجام دے رہی ہیں، جبکہ مخصوص پوائنٹس پر ناکہ بندی بھی سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فرار کے راستے کو روکا جا سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ طویل المدتی آپریشن کا مقصد علاقے میں ممکنہ ملی ٹینٹ عناصر کی موجودگی کو ختم کرنا اور سرحدی ضلع میں مکمل امن و استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر مشکوک سرگرمی پر فوری ردعمل دیں اور علاقے میں تسلسل کے ساتھ گشت جاری رکھیں۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق ’آپریشن شیرئوالی‘ ایک کثیر ایجنسی انسداد ملی ٹینسی مہم ہے جس میں فوج، پولیس اور دیگر انٹیلی جنس ادارے شریک ہیں۔ اس آپریشن کا دائرہ کار دور دراز پہاڑی علاقوں تک پھیلا ہوا ہے جہاں گزشتہ کچھ عرصے سے مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاعات موصول ہو رہی تھیں۔حکام نے واضح کیا ہے کہ جب تک مکمل تصدیق اور صفائی نہیں ہو جاتی، یہ آپریشن جاری رہے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ دشوار گزار جغرافیہ اور موسم کی سختیاں اس کارروائی کو طویل بنا رہی ہیں، تاہم سیکورٹی فورسز اپنے مشن پر مکمل توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ راجوری اور اس کے ملحقہ اضلاع ماضی میں بھی دراندازی اور عسکری سرگرمیوں کے تناظر میں حساس سمجھے جاتے رہے ہیں، اسی لیے ان علاقوں میں انسداد دہشت گردی آپریشنز کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔سیکورٹی حکام نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ خطے میں مکمل امن کی بحالی اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔