محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کے چکھڑی بن اور اس کے ملحقہ علاقوں میں جنگلی ریچھوں کی بڑھتی ہوئی نقل و حرکت نے مقامی آبادی کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ علاقہ مکینوں نے ضلعی انتظامیہ سے فوری مداخلت کرتے ہوئے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق گزشتہ چند دنوں سے دو سے تین ریچھوں کے جھنڈ مختلف آبادی والے علاقوں کے نزدیک دیکھے جا رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں، خصوصاً اسکول جانے والے بچوں، خواتین اور روزانہ مزدوری کرنے والے افراد میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شام ڈھلتے ہی لوگ گھروں سے نکلنے میں ہچکچاہٹ محسوس کر رہے ہیں جبکہ دیہی علاقوں میں معمولاتِ زندگی بھی متاثر ہونے لگے ہیں۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ عموماً ریچھ مکی اور دیگر فصلوں کے پکنے کے موسم میں انسانی آبادی کے قریب آتے ہیں، تاہم اس سال فصل کی تیاری میں ابھی تقریباً دو ماہ باقی ہیں اور ریچھوں کی قبل از وقت آمد نے لوگوں کو مزید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ عوام کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال غیر معمولی ہے اور اس کے اسباب جاننے کے ساتھ ساتھ فوری حفاظتی اقدامات کی بھی ضرورت ہے۔اہلیانِ چکھڑی بن و ملحقہ علاقوں نے ڈپٹی کمشنر پونچھ کے نام ایک عوامی اپیل میں کہا ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، جس کے باعث مقامی باشندوں میں بے چینی بڑھتی جا رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آ سکتا ہے۔اپنی اپیل میں عوام نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر محکمہ وائلڈ لائف کی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں روانہ کیا جائے، ریچھوں کو محفوظ طریقے سے قابو میں لانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، حساس مقامات پر نگرانی اور گشت کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔علاقہ مکینوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لے کر عوام کو درپیش خوف و خطر کی کیفیت کا خاتمہ کرے گی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔