ایجنسیز
نیویارک//امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نئے ایئر فورس ون طیارے کی نقاب کشائی کر دی ہے۔ یہ طیارہ پہلے قطر کے شاہی خاندان کے پاس تھا۔ یہ بوئنگ 747-8 جیٹ ہے جس کو اب امریکی صدر کے سرکاری طیارے کے طور پر تیار کیا گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ نیا طیارہ موجودہ ایئر فورس ون سے کافی بڑا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ اگلے ماہ ترکیہ کی راجدھانی انقرہ میں ہونے والی ناٹو سمٹ میں اسی طیارے سے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بتایا کہ مستقبل میں چین کے ممکنہ دورے کے لیے بھی اس طیارے کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ٹرمپ نے بتایا کہ فرانس میں ہوئی جی-7 کانفرنس سے ان کی واپسی موجودہ ایئرفورس ون کا آخری مقررہ سفر تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 4 جولائی کو امریکہ کے جشن یوم آزادی کے دوران نیا ایئرفورس ون طیارہ خصوصی پرواز کرتے ہوئے دکھائی دے گا۔خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق قطر سے ملنے والا یہ طیارہ عارضی طور پر صدر کے طیارے کا کردار ادا کرے گا۔ اسے برج ایئر کرافٹ کہا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک بوئنگ کمپنی امریکی صدر کے لیے نیا طیارہ تیار نہیں کردیتی، تب تک اسی طیارے کا استعمال کیا جائے گا۔ بوئنگ کا نیا طیارہ 2028 تک ملنے کی امید ہے۔نئے طیارے کا نیچے کا حصہ گہرے نیلے رنگ کا ہے اور اس کے اوپر لال رنگ کی پٹی بنائی گئی ہے۔ طیارے کے پچھلے حصے پر بڑا امریکی پرچم اور صدرکی مہر بھی لگی ہوئی ہے۔ ہوائی جہاز کا دورہ کرنے والے صحافیوں نے بتایا کہ یہ کسی ہوائی جہاز سے زیادہ ایک عالیشان گھر جیسے لگتا ہے۔ اس کے اندر ہلکے بھورے رنگ کی دیواریں، چمکدار سجاوٹ، سلور فنشز اور لکڑی کی مضبوط میزیں ہیں۔ سیٹ بیلٹ پر صدر کی مہر لگی ہوئی ہے۔ہوائی جہاز میں کشادہ لاؤنجز، آرام دہ صوفے، میٹنگ اور کانفرنس کے لیے سے مخصوص ایریاز بنائے گئے ہیں۔ سیٹیں مکمل طور پر بستر میں تبدیل ہو سکتی ہیں۔ صحافیوں کے لیے بنایا گیا پریس ایریا پرانے ایئر فورس کے مقابلے 2 سے 3 گنا وسیع ہے۔
قطر سے تحفے میں ملے اس مہنگے طیارے کے حوالے سے امریکہ میں تنازع بھی ہوا ہے۔ کچھ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ کسی غیر ملک سے اتنا مہنگا تحفہ قبول کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ امریکی فضائیہ نے بتایا کہ طیارے میں ضروری حفاظتی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ پہلے دی گئی معلومات کے مطابق ان تبدیلیوں پر 400 ملین (تقریباً 3.8 لاکھ کروڑ روپے) کا خرچ آیا ہے۔