یواین آئی
واشنگٹن// امریکی سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے متفقہ فیصلہ دیتے ہوئے چرس پینے والوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ نے منشیات چرس کا استعمال کرنے والوں کو اسلحہ رکھنے کی اجازت دے دی ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے عائد اس پابندی کو زک پہنچی ہے اور یہ محدود ہو گئی ہے۔امریکی سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ ریاست ٹیکساس کے رہائشی علی ہیمانی کیس میں دیا، جس میں علی ہیمانی کا کہنا تھا کہ وہ ہر دوسرے دن چرس کا استعمال کرتا ہے۔ وفاقی حکام نے اس پر صرف اس بنیاد پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا کہ وہ منشیات کے استعمال کے ساتھ اپنے پاس اسلحہ رکھتا ہے۔ حالانکہ گرفتاری کے وقت وہ نہ نشے کی حالت میں تھے اور نہ ہی ان کے ہاتھ میں ہتھیار تھا۔سپریم کورٹ نے نچلی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں ان کے خلاف فردِ جرم کو غیر آئینی قرار دے کر ختم کردیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ صرف اس بنیاد پر کسی شخص کو اسلحہ رکھنے سے نہیں روکا جا سکتا کہ وہ غیر قانونی طور پر چرس (ماریجوانا) استعمال کرتا ہے۔عدالت عظمیٰ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ حکومت جب تک یہ ثابت نہیں کرلیتی کہ نشہ کرنے والا شخص اس اسلحے کے باعث دوسروں کے لیے خطرہ بن سکتا ہے، اس وقت تک کسی پر پابندی عائد نہیں کی جا سکتی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام منشیات استعمال کرنے والوں کو بلاشرط اسلحہ رکھنے کی اجازت مل گئی ہے۔ منشیات کے عادی افراد پر اسلحہ رکھنے اور نشے کی حالت میں اسلحہ رکھنے پر پابندی بدستور برقرار ہے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ فیصلہ سابق امریکی صدر کے بیٹے ہنٹر بائیڈن جیسے مقدمات پر لاگو نہیں ہوتا کیونکہ وہ اسلحہ رکھنے کے وقت منشیات کے عادی ہونے کا اعتراف کر چکے تھے۔واضح رہے کہ امریکا کی 40 سے زائد ریاستوں میں ماریجوانا (چرس) کسی نہ کسی شکل میں قانونی قرار دی جا چکی ہے تاہم وفاقی قانون کے تحت یہ اب بھی ممنوعہ منشیات میں شامل ہے۔