ایجنسیز
زیورخ+دبئی+واشنگٹن// لبنان میں ہفتے کے روز اسرائیلی حملوں میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ چند گھنٹے قبل ہی جنگ بندی نافذ ہوئی تھی۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی جانب سے حملوں کے جواب میں کی گئی، جبکہ ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو لبنان میں ’’آزادانہ نقل و حرکت‘‘ کی اجازت نہیں دے گی۔لبنان میں لڑائی کا خاتمہ امریکہ اور ایران کے درمیان مجوزہ 60 روزہ مذاکرات کے آغاز کی ایک بنیادی شرط ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر پیچیدہ مسائل پر اختلافات کو حل کرنا ہے، تاکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تیل کی رسد کو مستحکم کرنے کے لیے ایک پائیدار معاہدہ طے کیا جا سکے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ مذاکرات کب شروع ہوں گے۔بدھ کے روز طے پانے والے عبوری امریکہ۔ایران معاہدے کے مطابق دونوں ممالک اور ان کے اتحادی تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے کے پابند ہیں، جن میں لبنان بھی شامل ہے۔تاہم اسرائیل، جو ان مذاکرات کا حصہ نہیں تھا، کا کہنا ہے کہ وہ اس معاہدے کا فریق نہیں ہے اور لبنان کے تقریباً 5 فیصد علاقے میں اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھے گا، جس پر اس وقت اس کا قبضہ ہے۔ایک امریکی عہدیدار کے مطابق جنگ بندی جمعہ کو شام 4 بجے (1300 GMT) نافذ ہوئی، جبکہ اسرائیلی اور حزب اللہ ذرائع نے بھی رائٹرز کو اس معاہدے کی تصدیق کی۔لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی این این اے کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں اور ڈرونز نے جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا، جو حزب اللہ کے مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں۔ایک اسرائیلی فوجی عہدیدار نے کہا کہ حزب اللہ نے رات بھر جنوبی لبنان میں تعینات اسرائیلی افواج پر 50 سے زائد راکٹ اور گولے داغے، جس کے جواب میں اسرائیل نے حزب اللہ کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔حزب اللہ نے فوری طور پر ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی، تاہم تنظیم کے ایک سینئر عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ حزب اللہ اسرائیلی افواج کو لبنانی سرزمین پر آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت نہیں دے گی اور نہ ہی 2 مارچ سے پہلے والی صورتحال کی بحالی قبول کرے گی۔لبنان اس وقت علاقائی جنگ کا حصہ بنا جب حزب اللہ نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل پر حملے کیے، جس کے جواب میں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف وسیع فوجی کارروائی شروع کی، جس میں جنوبی لبنان پر زمینی حملہ بھی شامل تھا۔ہفتے کے روز ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک جنوبی لبنان کے ضلع صور کے قصبے بارش میں ایک تین منزلہ رہائشی عمارت پر کیا گیا، جس میں ایک باپ، ماں اور ان کے دو بچے ہلاک ہوگئے۔لبنانی فوج کے مطابق کفاررمان۔نبطیہ شاہراہ پر ایک اسرائیلی حملے میں ایک فوجی بھی مارا گیا۔اسرائیلی فوج کی عربی زبان کی ترجمان نے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام اس وقت ممکن ہے جب حزب اللہ مبینہ معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور دشمنانہ سرگرمیاں بند کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا مقصد حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنا اور خطرات کو دور کرنا ہے، نہ کہ لبنانی شہریوں کو نقصان پہنچانا۔لبنان کی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 3,912 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں طبی عملہ، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس عرصے میں کم از کم 32 اسرائیلی فوجی اور 4 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
شدید لڑائی کے دوران یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان کب بامعنی مذاکرات شروع ہوں گے، جن کا مقصد اس ہفتے طے پانے والے 14 نکاتی عبوری معاہدے کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا ہے۔پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو اس تنازع میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں، تہران میں موجود ہیں جہاں وہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کر رہے ہیں۔ یہ اطلاع ایران کی خبر رساں ایجنسی آئی ایس این اے نے وزارت خارجہ کے ترجمان کے حوالے سے دی۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اس ہفتے ایران سے مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا اپنا منصوبہ منسوخ کر دیا، جبکہ سوئس حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایسے مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔وائٹ ہاؤس نے ان اطلاعات کی تصدیق نہیں کی کہ صدرڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر اب بھی سوئٹزرلینڈ میں ایرانی حکام سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔جمعہ کے روز سوئس حکام نے قطر کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی، جو ان مذاکرات میں معاونت کر رہا ہے۔