عظمیٰ ویب ڈیسک
گول// کانگریس کے یوتھ رہنما خادم وانی نے میڈیکل بلاک گول میں طبی سہولیات کی ابتر صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جموں و کشمیر حکومت اور مقامی منتخب نمائندوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں سے کیے جانے والے کھوکھلے وعدوں، بلند بانگ دعوؤں اور مسلسل بے حسی نے گول سب ڈویژن کے صحت کے نظام کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں خادم وانی نے سب ضلع ہسپتال گول سمیت مختلف طبی اداروں میں ڈاکٹروں، نیم طبی عملے اور دیگر ملازمین کی شدید قلت پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خالی آسامیوں کو پُر نہ کیے جانے اور طبی اداروں کو مضبوط بنانے میں ناکامی کے باعث عوام کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور مقامی ایم ایل اے کی جانب سے صحت کی سہولیات میں بہتری کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ صورتحال یہ ہے کہ معمولی طبی علاج کے لیے بھی مریضوں کو طویل فاصلے طے کرکے دیگر علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے کیونکہ متعدد طبی مراکز مطلوبہ عملے سے محروم ہیں۔
خادم وانی کے مطابق سب ضلع ہسپتال گول، جو گول اور ملحقہ علاقوں کے ہزاروں افراد کو طبی خدمات فراہم کرتا ہے، شدید عملہ قلت کا شکار ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں قائم طبی مراکز کی حالت اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ایچ سی سنگلدان، پی ایچ سی سرنڈا، پی ایچ سی ڈیڈھ، پی ایچ سی سری پورہ، این ٹی پی ایچ سی داڑم اور این ٹی پی ایچ سی اندھ سمیت متعدد طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کی شدید کمی پائی جا رہی ہے۔
وانی نے کہا کہ ان اداروں میں ڈاکٹروں، اسٹاف نرسوں، فارماسسٹوں، لیبارٹری ٹیکنیشنز اور دیگر ضروری طبی عملے کی قلت کے باعث مریضوں کی دیکھ بھال اور ہنگامی طبی خدمات بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومتی نمائندے ترقی اور صحت کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے بلند دعوے کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ گول کے عوام آج بھی بنیادی طبی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے صرف تقاریر اور پریس بیانات تک محدود رہے ہیں اور زمینی سطح پر کوئی خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔
خادم وانی نے کہا کہ عوام کو بار بار اعلانات اور یقین دہانیوں کے ذریعے گمراہ کیا گیا ہے۔ اگر حکومت واقعی عوامی فلاح و بہبود کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ مسلسل عوامی مطالبات کے باوجود اہم طبی ادارے آج بھی محدود عملے کے ساتھ کیوں چل رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس بحران سے سب سے زیادہ حاملہ خواتین، بزرگ شہری، بچے اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریض متاثر ہو رہے ہیں۔ دور افتادہ اور پہاڑی علاقوں کے رہائشی مناسب طبی سہولیات نہ ہونے کے باعث یا تو نجی علاج پر بھاری اخراجات کرنے پر مجبور ہیں یا پھر دور دراز ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔
وانی نے مطالبہ کیا کہ گول سب ڈویژن کے تمام طبی اداروں میں ماہر ڈاکٹروں، میڈیکل آفیسرز، اسٹاف نرسوں، فارماسسٹوں، لیبارٹری ٹیکنیشنز اور دیگر طبی عملے کی فوری تعیناتی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے علاقے کے صحت کے بنیادی ڈھانچے اور طبی سہولیات کا جامع جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت عوامی مسائل کو مسلسل نظر انداز کرتی رہی تو عوامی بے چینی میں مزید اضافہ ہوگا۔ عوام کی صحت اور فلاح کو سیاسی نعروں اور کھوکھلے وعدوں کی نذر نہیں کیا جا سکتا۔
خادم وانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ گول کے عوام کے مسائل کو ہر سطح پر اجاگر کرتے رہیں گے اور اس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک تمام خالی اسامیاں پُر نہیں کی جاتیں اور ہر شہری کو معیاری طبی سہولیات میسر نہیں آ جاتیں۔
گول میں طبی نظام بدحالی کا شکار، حکومتی دعوے محض سراب ثابت، عوام بنیادی سہولیات سے محروم: خادم وانی