مہرالنساء قریشی
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خوبصورت اور متوازن ماحول عطا کیا ہے۔ سرسبز درخت، زرخیز زمین، صاف پانی، تازہ ہوا، بلند پہاڑ اور وسیع سمندر قدرت کے انمول تحفے ہیں جو زندگی کے تسلسل کے لیے نہایت ضروری ہیں۔ یہ تمام نعمتیں انسان کی جسمانی، ذہنی اور روحانی صحت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو ایک خاص مقصد کے تحت تخلیق کیا ہے اور ماحول بھی انہی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے جو انسان کی بقا اور خوشحالی کا ذریعہ بنتا ہے۔
صاف اور تازہ ہوا انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ انسان دن رات سانس لیتا ہے اور اس کے پھیپھڑے آکسیجن کے ذریعے جسم کے ہر حصے کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ اگر ہوا پاکیزہ اور آلودگی سے پاک ہو تو انسان صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ اسی طرح صاف پانی زندگی کی بنیاد ہے۔ پانی نہ صرف پیاس بجھاتا ہے بلکہ جسم کے نظام کو درست طریقے سے چلانے، بیماریوں سے بچانے اور صحت کو برقرار رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
درخت اور پودے ماحول کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں اور ہمیں آکسیجن فراہم کرتے ہیں۔ یہ درجہ حرارت کو متوازن رکھتے، بارشوں کے نظام کو بہتر بناتے اور بے شمار جانداروں کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔ زرخیز زمین انسان کو اناج، پھل، سبزیاں اور دیگر غذائی ضروریات مہیا کرتی ہے، جبکہ پہاڑ، دریا اور سمندر قدرتی حسن کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔
ایک صحت مند ماحول نہ صرف انسان کی جسمانی نشوونما کے لیے ضروری ہے بلکہ ذہنی سکون اور خوشی کا بھی باعث بنتا ہے۔ قدرتی مناظر انسان کے دل و دماغ کو تازگی بخشتے ہیں اور اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور عظمت پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماحول انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ ہے اور اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ماحول جتنا ہماری زندگی کے لیے ضروری ہے، اتنی ہی اس کی حفاظت اور صفائی بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ اسلام نے بھی صفائی کی اہمیت پر بہت زور دیا ہے۔ حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے۔‘‘ صفائی کا مطلب صرف اپنے جسم، کپڑوں یا گھر کو صاف رکھنا نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول، گلیوں، سڑکوں، پارکوں، ندی نالوں اور عوامی مقامات کو بھی صاف ستھرا رکھنا ہے۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ہم پر فرض ہے کہ ہم اپنے ایسے اعمال سے گریز کریں جو دوسروں کے لیے تکلیف اور ماحول کے لیے نقصان کا سبب بنیں۔
بدقسمتی سے آج انسان اپنی سہولت اور لاپروائی کی وجہ سے ماحول کو مسلسل آلودہ کر رہا ہے۔ کوڑا کرکٹ سڑکوں، گلیوں اور کھلے میدانوں میں پھینک دیا جاتا ہے جس سے نہ صرف بدبو اور بیماریوں کا پھیلاؤ ہوتا ہے بلکہ نکاسیٔ آب کے نظام بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پلاسٹک کی بوتلیں، پولیتھین بیگز اور دیگر غیر تحلیل پذیر اشیاء ندی نالوں میں جمع ہو کر پانی کے بہاؤ کو روکتی ہیں، جس کے نتیجے میں سیلابی صورتحال اور آبی آلودگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ پلاسٹک زمین میں سینکڑوں سال تک موجود رہتا ہے، زمین کی زرخیزی کو متاثر کرتا ہے، پودوں کی نشوونما میں رکاوٹ بنتا ہے اور جانوروں کی زندگی کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلاسٹک ہماری زمین، ہماری فصلوں، ہمارے درختوں اور ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ایک خاموش زہر یا کینسر کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔اسی طرح جنگلات کی بے دریغ کٹائی، جسے ڈیفاریسٹیشن کہا جاتا ہے، ماحولیاتی توازن کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ درختوں کی کمی سے آکسیجن کی مقدار کم ہوتی ہے، درجہ حرارت بڑھتا ہے اور قدرتی حسن متاثر ہوتا ہے۔ دوسری جانب فیکٹریوں، گاڑیوں اور مختلف مشینوں سے نکلنے والا دھواں فضائی آلودگی میں اضافہ کرتا ہے جو سانس کی بیماریوں اور دیگر طبی مسائل کا سبب بنتا ہے۔
اگرچہ جدید ٹیکنالوجی نے انسان کو بے شمار سہولیات فراہم کی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ اگر ہم پلاسٹک، مشینری اور جدید مصنوعات استعمال کرتے ہیں تو ہمیں ان کے مناسب استعمال، ری سائیکلنگ اور درست تلفی کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ جب انسان اپنی ذمہ داریوں کو نظر انداز کرتا ہے تو یہی سہولتیں مسائل اور وبال کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم ترقی اور ماحول کے تحفظ کے درمیان توازن قائم کریں تاکہ ایک صاف، صحت مند اور محفوظ دنیا آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ سکیں۔
ہر سال 5 جون کو عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد عوام میں ماحول کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا اور انہیں یہ احساس دلانا ہے کہ ایک صحت مند اور خوشحال زندگی کے لیے صاف ستھرا ماحول کس قدر ضروری ہے۔ اس دن دنیا بھر میں مختلف پروگراموں، سیمینارز، ریلیوں اور شجرکاری مہمات کا انعقاد کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں کو ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دی جا سکے۔ عوام کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر ہم آج اپنے ماحول کی حفاظت کریں گے تو آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ، سرسبز اور روشن مستقبل فراہم کر سکیں گے۔اسی سلسلے میں ضلع کپواڑہ کے قصبہ ہندواڑہ میں واقع موناک سیکنڈری اسکول نے ایک قابلِ ستائش اور مثالی قدم اٹھایا۔ اسکول انتظامیہ نے میونسپل کمیٹی ہندواڑہ کے تعاون سے عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر ایک خصوصی بیداری مہم کا انعقاد کیا۔ اسکول کے طلبہ اور اساتذہ نے ایک عظیم الشان ریلی نکالی جس کا مقصد عوام میں ماحول کے تحفظ اور صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس ریلی کے ذریعے صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ دکانداروں، مزدوروں، راہگیروں اور عام شہریوں تک بھی یہ پیغام پہنچایا گیا کہ ماحول کا تحفظ صرف حکومت یا اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ریلی کے بعد طلبہ، اساتذہ اور اسکول انتظامیہ نے ایک ایسے عوامی پارک کا رخ کیا جو طویل عرصے سے خستہ حالی کا شکار تھا۔ پارک میں جگہ جگہ پلاسٹک کی بوتلیں، پولیتھین بیگز اور دیگر کچرا بکھرا ہوا تھا، جس نے اس کی خوبصورتی کو بری طرح متاثر کر دیا تھا۔ موناک سیکنڈری اسکول کے پرنسپل، اساتذہ اور طلبہ نے میونسپل کمیٹی ہندواڑہ کے اہلکاروں کے ساتھ مل کر صفائی مہم کا آغاز کیا۔ بچوں نے نہایت جوش و خروش کے ساتھ کچرا جمع کیا، پلاسٹک کو الگ کیا اور پارک کو صاف ستھرا بنانے میں بھرپور حصہ لیا۔
اس موقع پر طلبہ اپنے گھروں سے مختلف اقسام کے بیج، پودے اور پھولدار نباتات بھی ساتھ لائے تھے۔ ان پودوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت پارک میں لگایا گیا اور ان کی نگہداشت کا عہد بھی کیا گیا۔ اسکول انتظامیہ نے بچوں میں یہ احساس پیدا کیا کہ درخت لگانا صرف ایک دن کی سرگرمی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک قیمتی سرمایہ چھوڑنے کے مترادف ہے۔اس مہم کے اختتام پر طلبہ اور اساتذہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نہ صرف اس پارک کو پلاسٹک سے پاک اور سرسبز بنائیں گے بلکہ ہندواڑہ کے گلی کوچوں، سڑکوں اور عوامی مقامات کی صفائی اور خوبصورتی کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ موناک سیکنڈری اسکول ہندواڑہ کا یہ اقدام علاقے میں اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور مثالی قدم ثابت ہوا، جس نے یہ پیغام دیا کہ اگر تعلیمی ادارے، سرکاری محکمے اور عوام مل کر کام کریں تو ایک صاف، سرسبز اور صحت مند معاشرہ تشکیل دینا ہرگز ناممکن نہیں۔
[email protected]
����������������