ڈاکٹر شگفتہ خالدی
کسی بھی قوم کا مستقبل اس کے بچوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ بچے معاشرے کی امید خاندانوں کی خوشی اور ملک کی ترقی کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ جب یہی بچے عدم تحفظ اغواکاری تشدد یا قتل جیسے سنگین جرائم کا شکار ہونے لگیں تو یہ پورے معاشرے کے لیے لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں کشمیر میں بچوں کے لاپتہ ہونے اغوا ہونے اور بعض افسوسناک جرائم کے واقعات نے عوام میں شدید تشویش پیدا کی ہے۔ اگرچہ ایسے واقعات کی تعداد مجموعی آبادی کے لحاظ سے کم ہو سکتی ہے لیکن ایک بھی بچے کا نقصان پوری انسانیت کے نقصان کے مترادف ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام والدین تعلیمی ادارے سماجی تنظیمیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس مسئلے کو انتہائی سنجیدگی سے لیں اور بچوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششیں کریں۔آج کا دور تیز رفتار تبدیلیوں کا دور ہے۔ جدید ٹیکنالوجی انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے وہیں کئی نئے خطرات کو بھی جنم دیا ہے۔ بچوں کو مختلف ذرائع سے متاثر کرنا انہیں جھوٹی باتوں اور لالچ کے ذریعے اپنے جال میں پھنسانا بعض جرائم پیشہ عناصر کے لیے پہلے سے زیادہ آسان ہو گیا ہے۔ والدین کی معمولی سی غفلت بھی بعض اوقات بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ والدین اپنے بچوں کی روزمرہ سرگرمیوں دوستوں اور آن لائن مصروفیات پر نظر رکھیں اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں تاکہ بچے ہر بات بلا خوف و جھجک اپنے والدین کے ساتھ شیئر کر سکیں۔
بچوں کی اغواکاری کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات مالی فوائد کے لیے بعض اوقات ذاتی دشمنی کے باعث اور بعض اوقات دیگر مجرمانہ مقاصد کے تحت بچوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس خطرے سے نمٹنے کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی حفاظتی اصول سکھائیں۔ بچوں کو یہ سمجھانا ضروری ہے کہ وہ کسی اجنبی شخص سے تحائف کھانے پینے کی اشیاء یا کسی قسم کی پیشکش قبول نہ کریں۔ انہیں یہ بھی بتایا جائے کہ اگر کوئی نامعلوم شخص ان سے غیر معمولی گفتگو کرے یا ساتھ چلنے کی کوشش کرے تو فوراً اپنے والدین، اساتذہ یا قریبی ذمہ دار فرد کو اطلاع دیں۔اسکول اور تعلیمی ادارے بھی بچوں کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں حفاظتی آگاہی کے خصوصی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں تاکہ بچوں کو ذاتی حفاظت ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور مشکوک سرگرمیوں کی نشاندہی کے بارے میں تعلیم دی جا سکے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے رویوں پر نظر رکھیں۔ اگر کسی بچے کے رویے میں اچانک تبدیلی خوف پریشانی یا غیر معمولی خاموشی محسوس ہو تو اس پر توجہ دی جائے کیونکہ بعض اوقات بچے کسی خطرے یا دباؤ کا شکار ہوتے ہیں لیکن اس کا اظہار نہیں کر پاتے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری بھی نہایت اہم ہے۔ کسی بھی بچے کے لاپتہ ہونے کی اطلاع کو معمولی سمجھنے کے بجائے فوری کارروائی کی جانی چاہیے۔ جدید ٹیکنالوجی نگرانی کے نظام اور عوامی تعاون کو بروئے کار لا کر بچوں کی بازیابی کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔ پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کا مضبوط رشتہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ کسی بھی مشکوک واقعے کی اطلاع فوری طور پر متعلقہ حکام تک پہنچ سکے۔میڈیا اس سلسلے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ذمہ دار صحافت کے ذریعے نہ صرف عوام کو آگاہ کیا جا سکتا ہے بلکہ بچوں کے تحفظ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر کو بھی عام کیا جا سکتا ہے۔ تاہم میڈیا کو سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے جذبات اور بچوں کی عزت و وقار کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ آگاہی مہمات تربیتی پروگرام اور عوامی مباحثے معاشرے میں شعور پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا۔ پہلے زمانے میں محلوں اور دیہاتوں میں ایک دوسرے کے بچوں پر بھی نظر رکھی جاتی تھی جس سے تحفظ کا احساس پیدا ہوتا تھا۔ آج بھی اگر ہم اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور اپنے اردگرد کے ماحول پر نظر رکھیں تو کئی جرائم کو بروقت روکا جا سکتا ہے۔ اگر کسی علاقے میں کوئی مشکوک شخص گاڑی یا سرگرمی نظر آئے تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دینی چاہیے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے صرف قوانین کافی نہیں ہوتے بلکہ شعور ذمہ داری اور مسلسل نگرانی بھی ضروری ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کو اعتماد دیں ان کے ساتھ وقت گزاریں اور ان کی باتوں کو سنجیدگی سے سنیں۔ ایک ایسا بچہ جو اپنے والدین کے قریب ہو وہ کسی بھی خطرے یا پریشانی کے بارے میں بروقت آگاہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح معاشرے کے ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ بچوں کا تحفظ صرف ان کے والدین کی نہیں بلکہ پوری قوم کی ذمہ داری ہے۔
کشمیر سمیت پوری دنیا میں بچوں کے خلاف جرائم ایک سنگین مسئلہ ہیں جن کا مقابلہ صرف مشترکہ کوششوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ والدین کی بیداری اساتذہ کی رہنمائی پولیس کی مستعدی میڈیا کی ذمہ داری اور عوامی تعاون مل کر ایک محفوظ معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو خوف کے ماحول میں نہیں بلکہ تحفظ اعتماد اور محبت کے ماحول میں پروان چڑھانا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب ہوشیار، باخبر اور ذمہ دار شہری بنیں اور اپنے بچوں کے محفوظ مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ یہی ہمارے معاشرے کی ترقی امن اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔
والدین، اساتذہ اور معاشرے کے تمام ذمہ دار افراد کو چاہیے کہ وہ بچوں کی حفاظت کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں ان کی باتوں کو غور سے سنیں اور انہیں اچھے اور برے کی پہچان سکھائیں۔ بچوں کو یہ اعتماد دیں کہ وہ ہر مسئلہ اور پریشانی آپ کے ساتھ بلا جھجک شیئر کر سکیں۔ اجنبی افراد سوشل میڈیا کے خطرات اور غیر محفوظ مقامات کے بارے میں انہیں مسلسل آگاہ کرتے رہیں۔ یاد رکھیں کہ معمولی سی لاپرواہی بعض اوقات بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے جبکہ بروقت احتیاط اور بیداری کسی بڑے سانحے کو روک سکتی ہے۔ اپنے بچوں کے محفوظ روشن اور کامیاب مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
��