آصف حسین الکشمیری
کشمیر، جو کبھی حسن، علم، تہذیب، روحانیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی پہچان سمجھا جاتا تھا، آج ایک ایسے خاموش مگر نہایت خطرناک مسئلے سے گزر رہا ہے جس نے پوری وادی کے سماجی، اخلاقی اور انسانی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ مسئلہ منشیات کا ہے، ایک ایسا زہر جو آہستہ آہستہ نوجوان نسل کی رگوں میں سرایت کر رہا ہے، ان کی سوچ، کردار اور مستقبل کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر رہا ہے۔ وہ وادی جو کبھی علم و ادب، دینی ماحول، بزرگوں کی تعلیمات اور نوجوانوں کے روشن خوابوں کی علامت تھی، آج کئی گھروں میں خاموش سسکیوں، بے بسی، خوف اور ٹوٹتی ہوئی امیدوں کی داستان بن چکی ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب چند علاقوں یا چند افراد تک محدود نہیں رہا بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ نوجوان نسل کا ایک حصہ اس دلدل میں پھنستا جا رہا ہے، اور اگر بروقت اس کے خلاف سخت، منظم اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے وقت میں اس کے اثرات پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے سکتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں نوجوان ہی ذہنی، اخلاقی اور جسمانی کمزوری کا شکار ہو جائیں، وہاں ترقی، امن اور خوشحالی کے خواب بھی آہستہ آہستہ دم توڑنے لگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج منشیات کا مسئلہ صرف چند افراد کی خرابی نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل سے جڑا ہوا ایک بڑا سماجی خطرہ بن چکا ہے۔
منشیات کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو صرف جسمانی طور پر کمزور نہیں کرتیں بلکہ اس کی ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کو بھی تباہ کر دیتی ہیں۔ ایک نوجوان جب اس لعنت کا شکار ہوتا ہے تو آہستہ آہستہ اس کی شخصیت بکھرنے لگتی ہے، اس کی خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے، وہ اپنے مقصدِ زندگی سے دور ہو جاتا ہے اور اس کی سوچ پر مایوسی، بے چینی اور بے راہ روی غالب آ جاتی ہے۔ وہ نوجوان جو اپنے والدین کی امید، اپنے خاندان کا سہارا اور قوم کے مستقبل کا نمائندہ ہوتا ہے، نشے کی غلامی میں ایسا گرفتار ہو جاتا ہے کہ اسے صحیح اور غلط کے درمیان فرق بھی محسوس نہیں ہوتا۔ ابتدا میں اسے یہ صرف وقتی سکون یا ذہنی دباؤ سے نجات کا ایک ذریعہ محسوس ہوتا ہے، مگر رفتہ رفتہ یہی عادت اس کی پوری زندگی پر قابض ہو جاتی ہے۔ اس کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، اس کا رویہ بدل جاتا ہے، اس کی صحت کمزور پڑنے لگتی ہے اور وہ اپنے قریبی رشتوں سے بھی دور ہونے لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات کو صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک ایسی خاموش تباہی کہا جاتا ہے جو انسان کو اندر سے ختم کر دیتی ہے اور اس کے خواب، صلاحیتیں اور مستقبل سب کچھ نگل لیتی ہے۔
اس لعنت کے اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خاندان اس کی اذیت برداشت کرتا ہے۔ ایک ماں جو اپنے بچے کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتی ہے، وہی ماں راتوں کو جاگ کر اپنے بیٹے کی بگڑتی حالت پر آنسو بہانے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ ایک باپ جو اپنی پوری زندگی اولاد کی تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کے لیے محنت کرتا ہے، وہی باپ اپنی بے بسی اور ٹوٹتے ہوئے حوصلوں کے ساتھ خاموشی سے اندر ہی اندر بکھرنے لگتا ہے۔ گھروں کے اندر سکون کی جگہ بے چینی، اعتماد کی جگہ شک اور محبت کی جگہ تلخی پیدا ہونے لگتی ہے۔ کئی خاندان معاشی طور پر تباہ ہو جاتے ہیں کیونکہ نشے کا عادی شخص اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے گھر کا سامان تک فروخت کرنے پر اتر آتا ہے۔ بعض اوقات صورتحال یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ گھر کے افراد ایک دوسرے سے خوف محسوس کرنے لگتے ہیں اور پورا ماحول ذہنی دباؤ اور پریشانی کی تصویر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منشیات صرف ایک فرد کی زندگی نہیں برباد کرتیں بلکہ پورے خاندان کی بنیادیں ہلا دیتی ہیں، اور اس تباہی کے اثرات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
معاشرتی سطح پر اس کے اثرات مزید خوفناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جرائم میں اضافہ، چوری، لڑائی جھگڑے، اخلاقی گراوٹ اور نوجوانوں میں بے مقصدیت کا بڑھنا اسی تباہ کن ماحول کی نشانیاں ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ آج چرس، افیون، براؤن شوگر اور دیگر نشہ آور اشیاء نوجوان نسل تک آسانی سے پہنچ رہی ہیں، اور اس کے پیچھے ایک منظم اور خطرناک مافیا سرگرم ہے جو صرف اپنے مالی فائدے کے لیے پوری نسل کو تباہی کے کنارے پر دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے انسانیت، اخلاق اور معاشرتی اقدار کو چند سکوں کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ یہ لوگ نوجوانوں کی کمزوریوں، ذہنی دباؤ اور بے روزگاری کا فائدہ اٹھا کر انہیں نشے کی دلدل میں دھکیلتے ہیں، اور پھر یہی نوجوان آہستہ آہستہ اپنے خاندانوں، اپنے مستقبل اور اپنی شناخت سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مکروہ کاروبار میں ملوث تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، ان کے پورے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جائے اور قانون کی مضبوط گرفت کے ذریعے اس زہر کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔ صرف چھوٹے سطح کے افراد کو پکڑ لینا کافی نہیں بلکہ اس کاروبار کے پس پردہ موجود بڑے مافیا اور ان کے سرپرستوں تک پہنچنا بھی بے حد ضروری ہے، کیونکہ یہی وہ عناصر ہیں جو نوجوان نسل کے مستقبل کو خاموشی سے تباہ کر رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے منشیات کے خلاف مختلف بیداری پروگرام، ریلیاں اور مہمات چلائی جا رہی ہیں، جو یقیناً ایک مثبت قدم ہے۔ نشہ مکت ابھیان کے تحت وادی کے مختلف علاقوں میں عوامی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے بھی مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی بڑی ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے نوجوان نسل کو منشیات سے دور رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ بارہمولہ اور کپواڑہ میں منعقد ہونے والے ان اجتماعات میں عوام، طلبہ، اساتذہ، علماء، سماجی کارکنان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اب معاشرہ اس خطرناک مسئلے کی سنگینی کو محسوس کرنے لگا ہے۔ ان ریلیوں اور پروگراموں کا مقصد صرف نعرے لگانا نہیں بلکہ نوجوانوں کے اندر شعور بیدار کرنا، والدین کو محتاط کرنا اور پورے معاشرے کو یہ احساس دلانا ہے کہ اگر آج اس لعنت کے خلاف متحد ہو کر آواز نہ اٹھائی گئی تو آنے والا وقت مزید خطرناک ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان مہمات کو وقتی سرگرمیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مستقل بنیادوں پر عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے اور نوجوان نسل کو واقعی اس تباہ کن راستے سے بچایا جا سکے۔
اسی تناظر میں ایک حقیقت جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، وہ وادی میں شراب کی دکانوں کا کھلا رہنا ہے۔ ایک طرف حکومت اور سماج نوجوانوں کو نشے سے دور رکھنے کے لیے بیداری مہمات چلا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف شراب کی دکانیں کھلی ہوئی ہیں جہاں نشہ آور اشیاء کی فروخت جاری ہے۔ یہ صورتحال ایک واضح تضاد کو جنم دیتی ہے اور نوجوان ذہنوں میں الجھن پیدا کرتی ہے۔ اگر واقعی معاشرے کو منشیات اور نشے کی لعنت سے پاک کرنا مقصود ہے تو پھر ہر اس راستے کو بند کرنا ہوگا جو کسی بھی شکل میں نشہ آور رجحانات کو فروغ دیتا ہو۔ عوامی سطح پر یہ احساس شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ جب تک شراب کی دکانیں بند نہیں کی جاتیں اور نشہ آور اشیاء کی کھلے عام دستیابی ختم نہیں ہوتی، اس وقت تک منشیات مخالف مہمات اپنے مکمل اثرات مرتب نہیں کر سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اس بات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت صرف تقریروں اور ریلیوں تک محدود نہ رہے بلکہ عملی طور پر ایسے تمام ذرائع کو بھی بند کرے جو نوجوان نسل کو نشے کی طرف مائل کرتے ہیں، تاکہ معاشرے کو واقعی ایک صاف، محفوظ اور مثبت ماحول فراہم کیا جا سکے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، پولیس، انتظامیہ، علماء، اساتذہ، والدین، سماجی کارکنان اور نوجوان سب ایک مشترکہ ذمہ داری کے تحت اس جنگ میں اپنا کردار ادا کریں۔ والدین کو اپنے بچوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنی ہوگی، اساتذہ کو طلبہ کی ذہنی اور اخلاقی تربیت پر توجہ دینی ہوگی، علماء کو منبر و محراب کے ذریعے شعور بیدار کرنا ہوگا، اور سماج کے ہر فرد کو اس خاموش تباہی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی۔ کیونکہ اگر آج ہم نے اس زہر کو نہ روکا تو کل یہ صرف چند افراد نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کو نگل جائے گا۔ آخر میں یہی کہنا کافی ہے کہ منشیات صرف جسموں کو نہیں مارتیں بلکہ خوابوں، امیدوں، رشتوں اور مستقبل کو بھی دفن کر دیتی ہیں اور یہی اس دور کا سب سے بڑا اجتماعی المیہ ہے۔
رابطہ۔ 9797888975
[email protected]