عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے کشمیری پنڈتوں کی واپسی اور بازآبادکاری کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے ایپکس کمیٹی کی بحالی پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری پنڈتوں کی محفوظ، باوقار اور مستقل واپسی کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بیرونِ ملک مقیم کشمیری پنڈتوں کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ناصر اسلم وانی نے کہا کہ 2014 میں تحلیل کی گئی ایپکس کمیٹی کو دوبارہ فعال بنایا جانا چاہیے تاکہ کشمیری پنڈت برادری اور حکومت کے درمیان بامعنی مکالمے کے ذریعے واپسی کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا، ”صرف کانفرنسوں اور اجلاسوں سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمیں ایک میز پر بیٹھ کر سنجیدہ بات چیت کرنی ہوگی۔ آپ کی برادری کے نمائندے اور ہماری جانب سے نمائندے مل کر کشمیری پنڈتوں کی واپسی کے لیے قابلِ عمل راستہ تلاش کریں گے۔وانی نے کہا کہ حکومت جلد ہی وزیر اعلیٰ اور لیفٹیننٹ گورنر سے رابطہ کر کے کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کے لیے اقدامات کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کمیٹی کشمیری پنڈت برادری کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر ضروری فیصلے کرے گی اور واپسی کے عمل کے لیے ایک واضح حکمت عملی وضع کرے گی۔انہوں نے 1990 میں وادی میں شروع ہونے والی ملی ٹینسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دور کے اثرات صرف کشمیری پنڈتوں تک محدود نہیں رہے بلکہ مسلمانوں نے بھی مشکلات اور مصائب کا سامنا کیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی میں ایسے لوگ بھی موجود تھے اور آج بھی ہیں جن کے دل کشمیری پنڈتوں کے لیے دھڑکتے ہیں۔ناصر اسلم وانی نے زور دے کر کہا کہ الزام تراشی اور ماضی کے تنازعات کو دہرانے سے کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک کشمیری پنڈت اپنے آبائی وطن میں واپس آ کر آباد نہیں ہوتے، تب تک تمام کوششیں ادھوری رہیں گی۔