عظمیٰ نیوزسروس
جموں// جموں و کشمیر حکومت نے پاکستانی مقبوضہ جموں و کشمیر سے 1947میں اور چھمب سیکٹر سے 1965اور 1971کی جنگوں کے دوران بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے مرکزی امدادی اور بحالی اسکیم کی مدت میں توسیع کر دی ہے۔سرکاری حکم نامے کے مطابق اس سکیم کی آخری تاریخ جو پہلے 31 مارچ 2026 مقرر تھی، اب بڑھا کر 30ستمبر 2026کر دی گئی ہے۔ اس فیصلے کی منظوری وزارت داخلہ نے دی ہے اور اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جموں و کشمیر انتظامیہ کی جانب سے 10 جون کو جاری کیا گیا۔ یہ حکم محکمہ داخلہ کے پرنسپل سیکرٹری چندرکر بھارتی کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ توسیع پہلے سے منظور شدہ 2,000 کروڑ روپے کے مالیاتی پیکیج کے دائرہ کار کے اندر ہی ہوگی۔
مرکزی وزارت داخلہ نے 25 مئی 2026 کو اس توسیع کی منظوری دی تھی، جس کا مقصد ان اہل خاندانوں تک امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر ابھی تک اس بحالی پیکیج سے فائدہ نہیں اٹھا سکے تھے۔سرکاری حکم میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اسکیم اب کسی بھی صورت میں 30ستمبر 2026کے بعد جاری نہیں رہے گی اور یہ اس کا حتمی اختتامی مرحلہ ہوگا۔یہ یک وقتی آبادکاری سکیم ہے جو متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور بحالی معاونت فراہم کرنے کے لیے شروع کی گئی تھی۔ اس اسکیم کا مقصد ان خاندانوں کی مدد کرنا ہے جو 1947میں پاکستانی مقبوضۃ جموں و کشمیر سے اور 1965اور 1971کی جنگوں کے دوران چھمپ سیکٹر سے ہجرت پر مجبور ہوئے تھے۔حکام کے مطابق اس توسیع سے زیر التوا کیسز کو مکمل کرنے میں مدد ملے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ تمام اہل متاثرہ خاندان مقررہ مدت کے اندر اس بحالی پیکیج کے فوائد حاصل کر سکیں۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی نشاندہی اور ان کی مکمل بحالی کے عمل کو شفاف اور بروقت انداز میں مکمل کیا جائے تاکہ کسی بھی اہل فرد کو حق سے محروم نہ رہنا پڑے۔