عظمیٰ ویب ڈیسک
کولگام/جموں و کشمیر کی وزیر صحت و طبی تعلیم سکینہ ایتو نے بدھ کے روز پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی اور وقف بورڈ کی چیئرپرسن درخشاں اندرابی کے حالیہ ایمز دوروں پر سخت تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ کس اختیار کے تحت وہاں اجلاس اور جائزہ میٹنگیں منعقد کر رہی ہیں۔کولگام میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے سکینہ ایتو نےکہا کہ اپوزیشن لیڈران کے پاس ایسی سرگرمیاں انجام دینے کا کوئی سرکاری اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ کس اختیار کے تحت میٹنگیں کر رہی ہیں؟ نہ وہ وزیر ہیں اور نہ ہی اقتدار میں۔ انہیں اپنی حیثیت کا اندازہ ہونا چاہیے۔ میں ان اقدامات کو مایوسی قرار دیتی ہوں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ جن افراد کے پاس عوامی مینڈیٹ یا سرکاری عہدہ نہیں ہے، انہیں اختیار کا تاثر دینے یا سرکاری امور کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔وزیر صحت نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت میں حکومت مختلف اہم معاملات، خصوصاً جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی، پر متحرک انداز میں کام کر رہی ہے۔
سکینہ ایتو نے کہا، ’’ہمارے سامنے ہزاروں مسائل آئے ہیں جن میں سے کئی کو حل کیا جا چکا ہے۔ عوام کے جائز مطالبات کو مرحلہ وار اور بروقت پورا کیا جائے گا۔‘‘ریاستی درجے کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ حکومت گزشتہ 19 ماہ سے مذاکرات اور دیگر ذرائع کے ذریعے اس معاملے کو مسلسل اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی اپنی کوششیں مزید تیز کرے گی اور نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمنٹ مانسون اجلاس کے پہلے دن جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کریں گے تاکہ ریاستی حیثیت کی بحالی اور وعدوں کی تکمیل کے مطالبے کو مؤثر انداز میں اٹھایا جا سکے۔
سکینہ ایتو کا محبوبہ مفتی اور درخشاں اندرابی پر ایمز دورے کو لے کر شدید تنقید