محمد تسکین
بانہال // ضلع را م بن کے دور افتادہ علاقے گاندھری بلاک کی پنچایت ٹنگر میں ایک حاملہ خاتون کو مبینہ طور پر ایمبولینس عملے کی جانب سے گاؤں تک پہنچنے سے انکار کے بعد کئی کلومیٹر پیدل سفر کرنا پڑا ہے ۔اطلاعات کے مطابق رام بن کے ٹنگر گاؤں کی 23سالہ نعیمہ اختر کو اتوار کے روز حمل سے متعلق پیچیدگیاں لاحق ہوئیں جس کے باعث اسے فوری طبی امداد کی ضرورت پیش آئی۔ اہلِخانہ نے فوری طور پر 108ایمبولینس سروس سے رابطہ کیا جس پر رام بن سے ایک ایمبولینس روانہ کی گئی۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ ایمبولینس رامبن-گول شاہراہ پر واقع دھرم کنڈ زیرو پوائنٹ تک تو پہنچی، تاہم عملے نے مریضہ تک ٹنگر گاؤں پہنچنے سے انکار کر دیا۔ مقامی افراد کے مطابق انہوں نے بار بار ایمبولینس عملے سے درخواست کی اور خاتون کی تشویشناک حالت سے آگاہ کیا، لیکن اس کے باوجود عملہ گاؤں جانے پر آمادہ نہیں ہوا۔مقامی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مجبوری کی حالت میں نعیمہ اختر اور اس کے اہلِخانہ کو کافی فاصلہ پیدل طے کرنا پڑا، جس کے بعد ایک نجی گاڑی میں لفٹ حاصل کرکے وہ دھرم کنڈ زیرو پوائنٹ پہنچے، جہاں سے خاتون کو ایمبولینس کے ذریعے ضلع ہسپتال رام بن منتقل کیا گیا۔مقامی آبادی نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رام بن کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو آج بھی بنیادی طبی سہولیات اور بروقت ایمرجنسی خدمات کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور حاملہ خواتین، بزرگ افراد اور دیگر ہنگامی مریض اکثر بروقت طبی امداد سے محروم رہ جاتے ہیں۔اس سلسلے میں رابطہ کرنے پر چیف میڈیکل آفیسر رام بن ڈاکٹر کمل جی زاڈو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 108 ایمبولینس سروس ایک کنٹریکٹ کے تحت چلائی جا رہی ہے، تاہم محکمہ صحت کی کوشش ہوتی ہے کہ سڑک سے منسلک ہر گاؤں تک ایمبولینس خدمات فراہم کی جائیں۔انہوں نے کہا ’’ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ جہاں سڑک موجود ہو وہاں ایمبولینس پہنچے اور دشواری کی صورت میںمتاثرہ خاندان ان سے براہِ راست رابطہ کرسکتے ہیں ‘‘۔ڈاکٹر زاڈو نے کہا کہ اگر متاثرہ خاندان تحریری شکایت پیش کرتا ہے تو معاملہ قواعد کے مطابق کارروائی کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ سروسز جموں کو بھیجا جائے گا۔ انہوں نے رام بن کے دیہی علاقوں کے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی ہنگامی صورتحال میں ایمبولینس سروس دستیاب نہ ہو تو وہ براہِ راست ان سے رابطہ کریں۔انہوں نے مزید کہا، ’’تحریری شکایت موصول ہونے پر معاملہ اعلیٰ حکام اور متعلقہ کنٹریکٹ کمپنی کے ساتھ اٹھایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسی شکایات کے ازالے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘